وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے میرا پانی میرا پیسا، کسی کو اس سے کیا تکلیف ہے، پنجاب کو مشورہ دینے والے اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں۔
فیصل آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا جب نواز شریف پر سخت وقت آیا تو تمام رہنما سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے تھے، رانا ثنا اللہ پر منشیات کا بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا پنجاب اپنے عوام کو یورپ جیسی ٹرانسپورٹ فراہم کر رہا ہے، الیکٹرک بسیں چھوٹے شہروں اور بڑے شہروں میں لائیں گے، میں اپنے شہریوں پر بوجھ نہیں ڈالتی، الیکٹرک بسوں کا کرایہ صرف بیس روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیصل آباد ڈویژن کے لیے 150 الیکٹرک بسیں لائی ہوں، چند ہفتوں میں فیصل آباد میں میٹرو کی تعمیر شروع ہو جائے گی، وہ وقت دور نہیں جب فیصل آباد لاہور سے زیادہ ترقی یافتہ شہر ہو گا۔ راولپنڈی میں جدید الیکٹرک ٹرینیں لائیں گے، جھنگ اور چنیوٹ کو بھی الیکٹرک بسیں ملیں گی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ میں تنقید کو ہمیشہ مثبت انداز میں لیتی ہوں لیکن پنجاب اور پنجاب کے عوام پر کسی صورت تنقید برداشت نہیں کروں گی، پنجاب اپنے شہریوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔
ان کا کہنا تھا ملک میں ترقیاتی منصوبوں کے پیچھے نواز شریف اور شہبازشریف کا نام تاریخ میں لکھا جائےگا، جو دوسروں پر سیاہی اور جوتا پھینکنے کی ترغیب دیتے تھے آج ایک دوسرےکو جوتا مار رہے ہیں، گالیاں دینے والے آج اپنے انجام کو پہنچے۔ ہماری توجہ عوام کی خدمت پر ہے، میرے لیے پنجاب کے شہری، ان کے املاک اور مال مویشی بہت اہمیت رکھتے ہیں، مخالفین سے قدرت بدلہ لے رہی ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ اگر آپ سندھ میں کوئی کام کریں تو مجھے خوشی ہوتی ہے لیکن کچھ کرلو نا، پنجاب میں میٹرو بنی، اورنج لائن اور موٹروے بنیں، سڑکوں کا جال بچھایا، پنجاب نہریں نکالنے کی بات کرے توتکلیف کیوں ہو جاتی ہے، آپ کو کیا اعتراض ہے؟ پنجاب کے عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دیا تو آئی ایم ایف کے پاس جاکر شکایاتیں لگائی گئیں، برائے مہربانی پنجاب کے معاملات پر تنقید کرنا بند کریں، پنجاب کے سیکڑوں منصوبے گنوا سکتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی میں چاروں صوبوں کو ایک جیسے پیسے ملتے ہیں، آپ پیسے کہاں لگاتے ہیں؟ مانگنے والا سلسلہ اب بند ہو جانا چاہیے، پنجاب نے آپ کے معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی، آپ بھی نہ کریں، آپ کے پاس ہر چیز کا حل کشکول لیکر کھڑے ہو جانا ہے؟
مریم نواز کا کہنا تھا میں نے تو پانی چوری نہیں کرنا تھا، اپنے پانی سے چولستان کی زمین کو آباد کرنا تھا، میرا پانی، میرا پیسا ہے، آپ کو کیا تکلیف ہے، انھوں نے بجلی کے بلوں پر ریلیف دینے پر اعتراض کیا، میں خاموش رہی، جہاں پنجاب اور یہاں بسنے والوں کے حق کی بات آئے گی تو مریم نواز آپ کو چھوڑے گی نہیں، پنجاب کو مشورہ دینے والے اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں۔
افتتاحی تقریب زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقد ہوئی جس میں طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ننھی بچیوں نے علاقائی لباس اور بچوں نے پگڑیاں پہن کر مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔
الیکٹرو بس زرعی یونیورسٹی سے جناح باغ تک چلائی گئی۔ راستے میں شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود رہی۔ جیل روڈ اور یونیورسٹی چوک سمیت مختلف مقامات پر کارکنوں نے گلاب کی پتیاں نچھاور کیں اور فضا میں کبوتر چھوڑے گئے۔
گرین بس میں سوار وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بس کے دروازے پر آ کر بچوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ آپ کو دیکھا تو رہ نہ سکی۔
طلبہ اور طالبات نے محمد نواز شریف محترمہ کلثوم نواز اور مریم نواز شریف کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جو بعد ازاں وزیراعلیٰ نے خود وصول کیں۔ بس میں سوار بچوں نے وزیراعلیٰ کے ساتھ سیلفیاں بھی بنائیں۔
یونیورسٹی سے جناح باغ تک کے سفر کے دوران راستے میں ہزاروں افراد نے وزیراعلیٰ کو دیکھنے کے لیے جمع ہو کر خیر مقدم کیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر نے منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ فیصل آباد ڈویژن کے لیے مجموعی طور پر 150 الیکٹرو بسیں چلائی جائیں گی۔ پہلے مرحلے میں شہر میں 30 بسیں چلائی جا رہی ہیں۔
ابتدائی طور پر یہ بسیں یوسف ٹاؤن سے سیگل سٹی کے درمیان 22 کلومیٹر طویل روٹ پر اور یونیورسٹی راؤنڈ اباؤٹ سے سدھار تک 18 کلومیٹر طویل روٹس پر چلیں گی۔
اس سروس سے روزانہ 24 ہزار سے زائد مسافر مستفید ہوں گے۔ الیکٹرو بس میں بزرگ اور خصوصی افراد کے لیے مخصوص نشستیں اور خواتین کے لیے علیحدہ کمپارٹمنٹ مختص کیا گیا ہے۔
کرایہ 20 روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ بس میں وائی فائی موبائل چارجنگ اور سی سی ٹی وی کیمرے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت فیصل آباد میں بسوں کی چارجنگ کے لیے سٹیشن بھی قائم کیے گئے ہیں۔
حکومتی حکام کے مطابق منصوبے کا مقصد شہریوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ مزید بسیں جلد دیگر علاقوں میں چلانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔





