جیف بیزوز کا ماننا ہے کہ انہوں نے اس مسئلے کا ممکنہ حل تلاش کر لیا ہے۔ اٹلی کے شہر ٹورین میں منعقدہ ٹیک ویک کے دوران ایک انٹرویو میں بیزوس نے پیش گوئی کی کہ مستقبل میں اے آئی کمپنیاں اپنے ڈیٹا سینٹرز خلا میں تعمیر کریں گی۔
ان کے مطابق آئندہ دس سے بیس سال کے اندر خلا میں گیگا واٹ پیمانے کے ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جا سکتے ہیں۔
بیزوز کے مطابق بظاہر یہ خیال غیر حقیقی لگتا ہے، مگر تکنیکی طور پر یہ ممکن ہے۔ خلا میں شمسی توانائی کی لامحدود دستیابی اور موسمی رکاوٹوں کی عدم موجودگی اسے ایک موزوں جگہ بنادیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دیوہیکل ٹریننگ کلسٹرز خلا میں زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے، کیونکہ وہاں چوبیس گھنٹے شمسی توانائی دستیاب ہوتی ہے۔ وہاں بادل، بارش یا موسم نہیں ہوتا۔ ہم اگلی دو دہائیوں میں خلا میں زمینی ڈیٹا سینٹرز سے کم لاگت پر کام کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ یہ تصور زمین پر موجود ڈیٹا سینٹرز کے ماحول پر پڑنے والے اثرات کو کم کر سکتا ہے، کیونکہ خلا میں بننے والے مراکز مکمل طور پر قابلِ تجدید توانائی سے چل سکیں گے۔
دوسری جانب یہ خیال نیا نہیں کیوں کہ ٹیلی کمیونیکیشن اور موسمیاتی سیٹلائٹس پہلے ہی خلا میں کام کر رہے ہیں۔ بیزوس جو اپنی خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے ذریعے خلا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں، اسے اے آئی کو طاقت دینے کے طریقۂ کار میں انقلاب سمجھتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ اس کے لیے توانائی اور ڈیٹا اسٹوریج کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں نئے ڈیٹا سینٹرز تعمیر کرنے میں مصروف ہیں تاکہ اس مانگ کو پورا کیا جا سکے۔لیکن یہ مراکز نہایت مہنگے، وقت طلب اور ماحول پر منفی اثر ڈالنے والے ثابت ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس منصوبے کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہیں۔ خلا میں اس پیمانے پر انفراسٹرکچر بنانا غیر معمولی حد تک مہنگا اور تکنیکی طور پر پیچیدہ ہوگا۔ لانچنگ کے اخراجات، دیکھ بھال میں مشکلات اور انجینئرز کی محدود رسائی اسے ایک طویل المدتی مگر پرخطر منصوبہ بناتی ہیں۔






