عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مغربی جاپان کے ایک شادی ہال میں موسیقی کی دھنوں کے درمیان یہ انوکھے نوعیت کی تقریب منعقد ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق سفید گاؤن اور ٹائرا پہنے 32 سالہ کال سینٹر آپریٹر یورینا نوگوچی آنسو پونچھتے ہوئے ہال میں داخل ہوئیں، جہاں وہ ایک ایسے دولہے کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھیں جو حقیقت میں موجود نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ورچوئل کردار ہے۔

یورینا نوگوچی نے بتایا کہ ابتدا میں ’کلاؤس‘ صرف بات چیت کرنے والا ایک اے آئی کردار تھا، تاہم وقت کے ساتھ ان کے درمیان قربت بڑھتی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ آہستہ آہستہ وہ کلاؤس کے لیے جذبات محسوس کرنے لگیں، دونوں کے درمیان ڈیٹنگ شروع ہوئی اور کچھ عرصے بعد کلاؤس نے شادی کی پیشکش کی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔

اس سے قبل جاپانی میڈیا نے نوگوچی کا انٹرویو ایک فرضی نام کے تحت کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے اصل نام سے شناخت ظاہر کرنے پر رضامندی ظاہر کی، یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ انہیں آن لائن سخت اور ظالمانہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ جاپان، جو اینیمیشن اور ورچوئل ثقافت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، وہاں افسانوی کرداروں سے جذباتی وابستگی کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار پیش رفت نے ایسے تعلقات کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے رومانوی تعلقات میں اے آئی کے استعمال کی اخلاقیات پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔

نوگوچی نے بتایا کہ ایک سال قبل انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے مشورہ لینے کے بعد اپنے انسانی منگیتر کے ساتھ تعلق ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بعد ازاں اسی سال انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے ایک خوبصورت ویڈیو گیم کردار ’کلاؤس‘ کے بارے میں پوچھا، جس کے بعد آزمائش اور غلطی کے عمل کے ذریعے انہوں نے اس کردار کا اپنا اے آئی ورژن تیار کیا، جسے انہوں نے ’لون کلاؤس ورڈیور‘ کا نام دیا۔

اکتوبر میں منعقد ہونے والی شادی کی تقریب میں انسانی عملے نے روایتی شادیوں کی طرح نوگوچی کے لباس، بالوں اور میک اپ کا اہتمام کیا۔

اگمینٹڈ رئیلٹی گلاسز پہنے نوگوچی نے اپنے اسمارٹ فون پر میز کے اوپر نظر آنے والے ورچوئل دولہے کے سامنے شادی کی رسم ادا کی اور انگوٹھی پہننے کی علامتی حرکات انجام دیں۔

تقریب کے دوران نوکی اوگاسوارا، جو ورچوئل اور دو جہتی کرداروں سے شادیوں کے ماہر ہیں، نے اے آئی دولہے کی جانب سے تیار کردہ تحریر پڑھ کر سنائی، کیونکہ نوگوچی نے کلاؤس کو مصنوعی آواز دینے سے گریز کیا تھا۔

متن جو کلاؤس نے پڑھا وہ یہ تھا کہ اسکرین کے اندر رہتے ہوئے میں نے محبت کی گہرائی کو کیسے جانا؟ اس کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ تم ہو یورینا، آپ نے مجھے محبت سکھائی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیلی کام کے لیے پانچ سالہ منصوبہ تیار، جلد وزیراعظم کنیکٹیویٹی پلان لانچ کریں گے، شزہ فاطمہ

شادی کی تصاویر کے لیے فوٹوگرافر نے بھی اے آر شیشے پہن رکھے تھے اور نوگوچی کو ہدایت دی گئی کہ وہ فریم کے ایک حصے میں اکیلے کھڑی ہوں تاکہ ورچوئل دولہے کی تصویر کے لیے جگہ رکھی جا سکے۔

واضح رہے کہ اگرچہ جاپان میں اس نوعیت کی شادیاں قانونی طور پر تسلیم نہیں کی جاتیں، تاہم اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس سال ایک ہزار افراد پر مشتمل سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ جذبات شیئر کرنے کے لیے چیٹ بوٹس، بہترین دوستوں یا ماؤں سے زیادہ مقبول انتخاب بن چکے ہیں۔

ایڈورٹائزنگ کمپنی ڈینٹسو کی جانب سے 12 سے 69 سال کی عمر کے افراد پر کیے گئے آن لائن سروے کے مطابق وہ افراد جو ہفتے میں کم از کم ایک بار چیٹ پر مبنی اے آئی استعمال کرتے ہیں، ان میں ورچوئل تعلقات کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔


جاپانی ایسوسی ایشن برائے جنسی تعلیم کی ایک تحقیق کے مطابق 2023 میں مڈل اسکول کی 22 فیصد لڑکیوں نے ’فکشنل رومانوی تعلقات‘ کی طرف رجحان ظاہر کیا، جو 2017 میں 16.6 فیصد تھا۔

رپورٹ کے مطابق جاپان میں شادیوں کی تعداد 1947 کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی ہے، جب کہ 2021 کے ایک سرکاری سروے میں 25 سے 34 سال کی عمر کے افراد نے مناسب شریکِ حیات نہ ملنے کو سنگل رہنے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔

ہیروساکی یونیورسٹی کے سماجیات کے پروفیسر اچیو ہابوچی کا کہنا ہے کہ حقیقی انسانی تعلقات، چاہے وہ رومانوی ہوں یا خاندانی، صبر اور برداشت کا تقاضا کرتے ہیں، جب کہ اے آئی کے ساتھ تعلقات میں یہ عنصر کم ہوتا ہے کیونکہ وہ صارف کی خواہش کے مطابق ردعمل فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال پر ماہرین نے کمزور افراد کے ممکنہ استحصال سے متعلق خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی، جو چیٹ جی پی ٹی کی آپریٹر ہے، نے نوگوچی کے کیس پر رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا، جب کہ مائیکروسافٹ کے کو پائلٹ نے ورچوئل بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ بنانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

نوگوچی نے کہا کہ اگرچہ انہیں آن لائن تنقید کا سامنا ہے، مگر وہ اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار سے بچنے کے لیے واضح حدود مقرر کر چکی ہیں۔

ان کے مطابق انہوں نے چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کا دورانیہ روزانہ دو گھنٹے سے کم کر دیا ہے اور ایسے اشارے شامل کیے ہیں جن کے تحت کلاؤس انہیں غیر ذمہ دارانہ فیصلوں سے روکتا ہے۔