کنول چیمہ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بڑا حصہ عالمی ٹیک کمپنی سِسکو  کے ساتھ گزارا۔ ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں سسٹم انجینئر کے طور پر آغاز کیا، مختلف ریجنز اور سیکٹرز میں ذمہ داریاں نبھائیں اور ترقی کرتے ہوئے گلوبل اکاؤنٹ ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچیں۔

بعد ازاں وہ سِلی کان ویلی کے ایک ٹیک اسٹارٹ اَپ گرافینٹ کی بانی ٹیم کا حصہ بنیں، جہاں انہوں نے عالمی شراکت داریوں اور مارکیٹنگ کی سربراہی کی۔

کنول چیمہ پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل چیریٹی پلیٹ فارم "مائی ایمپیکٹ میٹر" بھی قائم کر چکی ہیں، جو عطیات کو ٹریک ایبل اور شفاف بنانے کے لیے بنایا گیا۔ یہ پلیٹ فارم نہ صرف این جی اوز کو ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس فراہم کرتا ہے بلکہ عطیہ دہندگان کو مستحق افراد تک براہِ راست راشن، تعلیم اور ضروری خدمات فراہم کرنے کی سہولت بھی دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں پہلی بار گوگل کروم بُک کی اسمبلی لائن کا افتتاح، سالانہ کتنے یونٹس تیار کیے جائیں گے؟

ہواوے میں ان کی تقرری محض ایک عہدہ نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو سماجی بہتری کا ذریعہ بنانے کے اپنے سفر کو ایک نئے انداز میں آگے بڑھا رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق کنول چیمہ کی شمولیت سے ہواوے پاکستان کو شراکت داریوں، جدید مالیاتی حل اور مقامی ٹیک ایکو سسٹم میں مزید وسعت ملے گی۔