فنانشل پلیٹ فارم آن ڈیک کے مطابق ایپل کا ریونیو فی ایمپلائی 24 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ ایک ایسا بزنس میٹرک ہے جس کے ذریعے افرادی قوت کی پیداواری کارکردگی کو کمپنی کی مجموعی آمدنی سے جانچا جاتا ہے۔
آن ڈیک کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی ملازم کمائی ایک مکمل اکائی نہیں کیونکہ یہ کاروباری ثقافت اور دیگر غیر محسوس عناصر کو نظر انداز کرتا ہے، مگر پھر بھی یہ عملے کی مجموعی کارکردگی کا ایک مضبوط اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
ٹیک کمپنیوں کی فی ملازم کمائی درجہ بندی میں سرفہرست نِوڈیا ہے جو فی ملازم سے 44 لاکھ ڈالرز اور دوسرے نمبر پر نیٹ فلیکس ہے جو فی ملازم سے 41 لاکھ ڈالرز کماتی ہے۔
Apple generates $2.4 million per employee but is only third in tech ranking https://t.co/DjW5gF0TK1 by @benlovejoy
— 9to5Mac (@9to5mac) November 20, 2025
ایپل کے اس رینک میں نیچے آنے کی بنیادی وجہ اس کے ایک لاکھ 64 ہزار سے زائد ملازمین ہیں، جن میں بڑی تعداد ریٹیل اسٹورز کے عملے پر مشتمل ہے۔ نِوڈیا اور نیٹ فلکس کے مقابلے میں یہ بہت بڑا ورک فورس ہے، جس سے اوسط آمدنی فی ملازم کی شرح کم ہوجاتی ہے۔
تمام صنعتوں میں فی ملازم کمائی کی دوڑ میں ویسی پراپرٹیز سب سے آگے ہے۔ یہ ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی ہے جو زیادہ تر کیسینوز اور ہائی ٹرن اوور ہوٹل بزنسز کو جائیدادیں لیز پر دیتی ہے۔
کیسینوز اپنی آپریشنل لاگت خود برداشت کرتے ہیں، جب کہ ویسی کو طویل مدتی اور مستحکم کرایے کی آمدنی ملتی ہےجس کی وجہ سے اس کی فی ملازم سب سے زیادہ ہے۔





