پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سربراہ پاک فضائیہ ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے ایئر شو کے دوران مختلف دوست ممالک کی فضائی افواج کے سربراہان سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ ملاقاتوں میں دفاعی تعاون، تربیتی شراکت داری اور مشترکہ فضائی مشقوں کے فروغ پر گفتگو کی گئی۔

ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی یو اے ای کے انڈر سیکریٹری آف ڈیفنس لیفٹیننٹ جنرل پائلٹ ابراہیم ناصر العلاوی اور کمانڈر یو اے ای ایئر فورس اینڈ ایئر ڈیفنس میجر جنرل راشد محمد الشمسی سے بھی اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ ان مذاکرات میں جدید تربیت، ابھرتی ایروسپیس ٹیکنالوجیز میں تعاون اور دوطرفہ آپریشنل رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

یو اے ای کی عسکری قیادت نے پاکستان ایئر فورس کی جدید کاری، مقامی صلاحیتوں میں اضافہ اور اپنی نوعیت کے کامیاب ترقیاتی پروگراموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ مشقوں اور پیشہ ورانہ تبادلوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان ایئر فورس کا خصوصی دستہ، جس میں جے ایف-17 تھنڈر بلاک تھری اور تربیتی طیارہ سپر مشاق شامل ہے، ایئر شو میں بھرپور انداز سے شریک ہے۔ ایئر شو کے دوران جے ایف-17 تھنڈر بلاک تھری غیر ملکی دفاعی ماہرین اور تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

جدید ترین ایویونکس، بہتر جنگی صلاحیتوں اور حقیقی معرکوں میں کامیاب کارکردگی نے جے ایف-17 تھنڈر کو کم لاگت، مؤثر اور قابل اعتماد کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ثابت کیا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اس کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق متعدد ممالک کی جانب سے جے ایف-17 میں بڑھتی دلچسپی پاکستان کی دفاعی صنعت پر عالمی اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔

ایک اہم پیش رفت کے طور پر ایک دوست ملک کے ساتھ جے ایف-17 طیاروں کی خریداری کیلئے ایم او یو پر دستخط بھی کیے گئے، جسے پاکستان کی دفاعی شراکت داریوں میں ایک نمایاں سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔