عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، 1940 کی دہائی میں ایک ایسے ڈائنو سار کی کھوپڑی ملی تھی جو ٹی ریکس سے مشابہت رکھتی تھی۔ چونکہ اس وقت صرف سر کا حصہ دریافت ہوا تھا اس لیے ماہرین یہ طے نہیں کر سکے کہ یہ کسی نابالغ ٹی ریکس کی کھوپڑی ہے یاکسی بالغ کی یا پھر کسی نئی نوع کے جانور کی۔
بعد ازاں سائنس دانوں کو ایک اور جزوی ڈھانچہ ملا، جسے'جین' کا نام دیا گیا، مگر اس دریافت کے بعد بحث ختم ہونے کے بجائے مزید گہری ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق، اب امریکی ریاست مونٹانا کے علاقے ہیَل کریک فارمیشن سے 2006 میں ملنے والے ایک مکمل ڈھانچے نے آخرکار اس معمہ کو حل کر دیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق، یہ ڈائنو سار ایک بالغ جانور تھا جس کا سائز مکمل ٹی ریکس سے تقریباً آدھا تھا۔ ہڈیوں کے اندر موجود گروتھ رنگز نے ظاہر کیا کہ یہ نابالغ نہیں بلکہ اپنی عمر کو پہنچا ہوا شکاری تھااور اس کی کھوپڑی و ہڈیوں کی ساخت میں ایسے فرق پائے گئے جو محض نشوونما سے پیدا نہیں ہو سکتے۔
سائنس دانوں نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جسے وہ ٹی ریکس سمجھ رہے تھے، دراصل وہ اس کا قریبی رشتہ دار مگر الگ نوع ہے، جسے اب نانوٹائرینَس لینسینس کا نام دیا گیا ہے، جو ٹائرینوسور خاندان سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ عام ڈائنو سارز سے۔
اس تحقیق کی شریک مصنف لنڈسے زانو کا کہنا ہے کہ یہ دریافت زمین کے مشہور ترین شکاری کے بارے میں دہائیوں پرانی تحقیق کو از سرِ نو تحریر کرتی ہے۔
دوسری جانب، کارتیج کالج کے ماہر تھامس کار کا کہنا ہے کہ نیا ڈھانچہ واقعی بالغ ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ٹی ریکس کی بہن نوع ہو، نہ کہ کوئی بالکل مختلف رشتہ دار۔
اب سائنس دانوں کے ذہنوں میں یہ سوال شدت سے ابھرا ہے کہ 67 ملین سال قبل زمین پر کیا صرف ٹی ریکس ہی سب سے بڑا شکاری تھا، یا پھر اس کے ساتھ نانوٹائرینَس بھی شکار کے میدان میں گھات لگائے بیٹھا تھا؟
یہ نایاب دریافت اس وقت نارتھ کیرولائنا میوزیم آف نیچرل سائنسز میں عوامی نمائش کے لیے رکھی گئی ہے۔






