یہ تحقیق ماکاؤ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے کی ہے ان کے مطابق یہ دریافت چاند اور زمین کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں مددگار ہے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین کے ماحول سے آکسیجن چاند تک پہنچتی ہے۔

زمین اور چاند کے درمیان سورج سے آنے والے چارج شدہ ذرات پہنچتے ہیں لیکن جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آتی ہے تو سورج کی ہوا روکی جاتی ہے اس دوران چاند کو زمین کے ماحول سے خارج ہونے والے ذرات ملتے ہیں جنہیں ارث ونڈ کہا جاتا ہے۔

یہ عمل سورج کی ہوا کی مداخلت کو کم کرتا ہے اور آکسیڈیشن یعنی زنگ لگنے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔

سائنسدانوں نے زمین کے ماحول کی نقل کرتے ہوئے لیبارٹری میں تجربات کیے ان میں ہائی انرجی ہائیڈروجن اور آکسیجن آئنز کو چاند پر موجود لوہے والے معدنیات کے سنگل کرسٹل پر بھیجا گیا نتیجہ میں کچھ کرسٹل ہیماٹائٹ میں تبدیل ہو گئے مزید تجربات سے معلوم ہوا کہ ہائیڈروجن کی بمباری سے ہیماٹائٹ دوبارہ لوہے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ہوائی کے ماہر شوائی لی جنہوں نے 2020 میں اس دریافت کی قیادت کی نے کہا یہ تجربہ چاند پر زنگ لگنے کے عمل کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔

ہیماٹائٹ کی موجودگی مستقبل کے چاندی مشنز کے لیے اہم ہے کیونکہ چاند پر زنگ لگنے کا عمل طویل مدتی قیام کے لیے آلات اور وسائل کی تیاری کو متاثر کر سکتا ہے۔

سائنسدانوں نے کہا چاند پر زنگ لگنے کے عمل کو سمجھنا مستقبل کے چاندی مشنز وسائل کے استعمال اور آلات کے ڈیزائن کے لیے ضروری ہے۔

Featured image (3) (43)
مستقبل میں یہ معلومات چاندی مشنز کی منصوبہ بندی اور وسائل کے مؤثر استعمال میں مدد دے سکتی ہیں۔ (تصویر: دی اٹلانٹک)

یاد رہے کہ تحقیق میں کہا گیا یہ دریافت چاند پر ہیماٹائٹ کی وسیع تقسیم اور زمین و چاند کے درمیان طویل مدتی مواد کے تبادلے کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے۔

یہ دریافت چاند کی جغرافیائی اور کیمیائی خصوصیات کے علاوہ زمین اور چاند کے درمیان تعلق اور مواد کے ممکنہ تبادلے کو بھی واضح کرتی ہے۔

مستقبل میں یہ معلومات چاندی مشنز کی منصوبہ بندی اور وسائل کے مؤثر استعمال میں مدد دے سکتی ہیں۔

واضع رہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے چاند پر طویل مدتی تحقیق اور مشنز کی کارکردگی بہتر ہو سکے گی اور چاند پر وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دی جائے گی