عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق چھانٹی کا عمل منگل سے شروع ہو رہا ہے اور اس میں ایمیزون کے مختلف شعبے متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں ہیومن ریسورسز (PXT)، آپریشنز، ڈیوائسز و سروسز اور ایمیزون ویب سروسز (AWS) شامل ہیں۔

یہ کمپنی کی سب سے بڑی نوکریوں میں کمی ہوگی، جس کے بعد 2022 کے اواخر میں کیے گئے 27 ہزار ملازمین کی برطرفی کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔

متعلقہ ٹیموں کے منیجرز کو پیر کے روز خصوصی ٹریننگ دی گئی تاکہ وہ منگل کو ملازمین کو ای میل کے ذریعے نوٹس بھیجنے کے بعد صورتحال کو بہتر طریقے سے سنبھال سکیں۔

کمپنی کے سی ای او اینڈی جیسی نے پہلے ہی عندیہ دیا تھا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے استعمال سے دفتری کاموں کی آٹومیشن میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں کچھ ملازمتوں کی ضرورت کم پڑ جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایمیزون نے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے AI سے حاصل ہونے والی پیداواریت کے فوائد کو استعمال کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ کمپنی کے دفتر میں پانچ دن حاضری کی نئی پالیسی سے مطلوبہ حد تک ملازمین خود چھوڑ کر نہیں گئے، اسی لیے بڑے پیمانے پر نوکریوں میں کمی کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ ایمیزون نے رواں سال کے اختتام پر متوقع بڑی تعطیلاتی خریداری مہم کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار موسمی ملازمین بھرتی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ایمیزون کے شیئرز پیر کے روز 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 226.97 ڈالر پر بند ہوئے، جب کہ کمپنی اپنا تیسری سہ ماہی کا مالیاتی نتیجہ جمعرات کو جاری کرے گی۔