اوپن اے آئی کے مطابق جی پی ٹی فائیو پوائنٹ ٹو  پہلے سے زیادہ قابلِ بھروسہ ہے اور طویل، پیچیدہ اور مشکل نوعیت کے کاموں کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کمپنی نے اعتراف کیا ہے کہ عام صارفین ٹیکنیکل پیچیدگیوں میں دلچسپی نہیں رکھتے، اس لیے ان کے لیے اتنا جاننا کافی ہے کہ یہ ماڈل روزمرہ استعمال کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ کارآمد ہے۔

اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمین نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر بتایا کہ جی پی ٹی فائیو پوائنٹ ٹو اب چیٹ جی پی ٹی اور اے پی آئی دونوں میں فعال ہے اور یہ اس وقت دنیا کا سب سے اسمارٹ اے آئی ماڈل ہے۔

جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق جی پی ٹی فائیو پوائنٹ ٹو مختلف النوع ٹاسکس کو غیر معمولی کارکردگی کے ساتھ انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نئے ماڈل کی میموری بھی پہلے کے مقابلے میں کافی بڑھا دی گئی ہے۔ صارفین پورے پروجیکٹ فولڈرز، طویل رپورٹس، قانونی معاہدے، سائنسی تحقیقی مقالے یا بڑی دستاویزات اپ لوڈ کر سکیں گے، جن کی تفصیلات ماڈل مسلسل ٹریک اور یاد رکھے گا۔ اپ گریڈ میموری کے باعث چیٹ جی پی ٹی فائیو پوائنٹ ٹو چارٹس، ڈایاگرامز اور سافٹ ویئر کو بھی زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ نیا ماڈل پہلے کے مقابلے میں زیادہ قابل اعتماد ہے اور اس میں غلطیوں کا امکان انتہائی کم رہ گیا ہے۔ اگر غلطیاں ہوں بھی تو انہیں درست کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

اوپن اے آئی کے مطابق جی پی ٹی فائیو پوائنٹ ٹو کو مرحلہ وار چیٹ جی پی ٹی پلس، پرو، گو، بزنس اور انٹرپرائز صارفین کے لیے دستیاب کرایا جا رہا ہے، جب کہ جی پی ٹی فائیو پوائنٹ ون تک رسائی آئندہ تین ماہ میں ختم کر دی جائے گی۔