اس نئے ماڈل کا بنیادی مقصد صرف کوڈنگ سے متعلق سوالات کے جوابات ہی نہیں دینا بلکہ یہ ایک تجربہ کار ڈیولپر کی طرح مسائل کو سمجھے گا اور پھر خود کار طریقے سے اسے مکمل کرے گا۔
کوڈیکس فائیو کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ اپنی توجہ حقیقی دنیا کے سافٹ وئیر انجینئر کی طرح کام پر مرکوز رکھے گا۔ اس نئے ورژن میں پراجیکٹس کی شروعات، پرانے کوڈ بیس کو ری فیکٹر، کوڈ کو بہتر بنانا، ڈیبگ اور مکمل کوڈ کو ریویو کرنا شامل ہیں۔
اوپن اے آئی کے مطابق کوڈیکس فائیو ابتدائی طور پر سات گھنٹے سے زیادہ خود مختار انداز میں کام کرنے میں کامیاب رہا، اس ٹیسٹ کے دروان اس نے خود سے حل تجویز کیے، ٹیسٹ کی ناکامیوں کو پہچانا اور بار بار اپنے کوڈ کو بہتر بنایا۔
اس ورژن کی بدولت اب گفتگو کے دوران اسکرین شاٹس، ڈایاگرامز یا دیگر امیجز کا تجزیہ بھی کیا جا سکتا ہے جو پہلے والے چیٹ جی پی ٹی ورژنز میں شامل نہیں تھا، اس کے علاوہ ویب سرچ اور دیگر بیرونی ٹولز کے ساتھ بھی اسے جوڑا گیا ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق یہ نیا ورژن تین حصوں میں کام کرتا ہے، پہلے جو کمانڈ دی اسے پڑھنا پھر اسی کمانڈ پر کام کرنا اور پھر اسی پر مکمل اختیار حاصل کر لینا ہے، ان طریقوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ آپ یہ طے کر سکتے ہیں کہ کوڈیکس کو کمپیوٹر یا نیٹ ورک تک کتنی رسائی دینا چاہتے ہیں، لیکن آپ جتنی بھی دیں گے وہ اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے گا۔
اس میں کوڈیکس کالوڈ کو بھی جی پی ٹی فائیو سے اس طرح جوڑا گیا ہے کہ ڈویلپر GitHub یا IDE (پروگرامنگ ایڈیٹر) کے اندر ہی کام تفویض کر سکتے ہیں، باہر نکلنے کی ضرورت نہیں
اوپن اے آئی کے مطابق یہ ماڈل خود بخود یہ پہچان سکتا ہے کہ آپ کا پروجیکٹ کیسے شروع ہوگا، کون سے سافٹ ویئر درکار ہوگا، کون سے کمانڈز چلانے ہیں اور یہاں تک کہ ویب پیج کی تصویری جھلکیاں بھی بنا کر متعلقہ کاموں سے جوڑ سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس نئے ماڈل میں سیکیورٹی کا خاص خیال رکھتے ہوئے کوڈیکس کو ڈیفالٹ طور پر ایک محفوظ ماحول میں چلایا جاتا ہے، جہاں یہ انٹرنیٹ پر نہیں جا سکتا، جب تک آپ خود اجازت نہیں دیتے۔ اگر ماڈل کوئی ایسا کمانڈ چلانا چاہے جو خطرناک ہو سکتا ہے، تو اس کے لیے آپ کی اجازت لینا ضروری ہو گی۔ ہر کام کے ساتھ مکمل رپورٹ، نتائج اور وضاحت فراہم کی جائے گی تاکہ آپ ہر قدم کو دیکھ سکیں۔






