عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت اوپن اے آئی کو ایمیزون ویب سروسز کے ذریعے ہزاروں جدید انوِڈیا چپس تک رسائی حاصل ہوگی، جو چیٹ جی پی ٹی جیسے ماڈلز کی کارکردگی بڑھانے میں مدد دیں گی۔
اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین کا کہنا ہے کہ کمپنی مستقبل میں بڑی سطح پر اے آئی ماڈلز تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر قابل اعتماد کمپیوٹنگ نیٹ ورک چاہتی ہے اور یہ شراکت داری اسی مقصد کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ ڈیل نہ صرف اوپن اے آئی کے لیے بلکہ ایمیزون کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی ہے، کیونکہ حالیہ عرصے میں یہ تاثر پیدا ہو رہا تھا کہ ایمیزون اپنے حریفوں مائیکروسافٹ اور گوگل سے پیچھے رہ گیا ہے۔
OpenAI turns to Amazon in $38 billion cloud services deal after restructuring https://t.co/RMHH6NE5WW https://t.co/RMHH6NE5WW
— Reuters (@Reuters) November 3, 2025
رپورٹ کے مطابق، اوپن اے آئی نے حال ہی میں اپنی تنظیم نو (ری اسٹرکچرنگ) مکمل کی ہے جس کے بعد وہ مالی طور پر مزید خودمختار ہو گیا ہے۔
اسی عمل کے بعد کمپنی نے مائیکروسافٹ کے ساتھ اپنے کچھ پرانے معاہدے ختم کرتے ہوئے دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل اور اوریکل سے بھی کلاؤڈ سروسز کے معاہدے کیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی آئندہ چند سالوں میں 1.4 ٹریلین ڈالرز تک سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ 30 گیگا واٹ تک کمپیوٹنگ پاور تیار کی جا سکے، جو اندازاً 25 ملین امریکی گھروں کو بجلی فراہم کرنے کے برابر ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل نہ صرف اے آئی کی بڑھتی ہوئی عالمی دوڑ کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کمپیوٹنگ پاور نئی کرنسی بن چکی ہے۔






