عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ جنوبی کورین کمپنیوں کے لیے عارضی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ امریکا نے رواں سال کے آغاز میں بعض ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دی گئی لائسنس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے چین کے لیے چِپ ساز آلات کی برآمدات پر اب سالانہ منظوری کا نیا نظام متعارف کرایا ہے۔

اس سے قبل سام سنگ، ایس کے ہائنکس اور تائیوان کی کمپنی ٹی ایس ایم سی کو امریکا کی جانب سے چین کے لیے چِپ سے متعلق سخت برآمدی پابندیوں سے استثنا حاصل تھا، جسے “ویلیڈیٹڈ اینڈ یوزر اسٹیٹس” کہا جاتا تھا۔ تاہم یہ سہولت 31 دسمبر کو ختم ہو جائے گی، جس کے بعد چین میں قائم ان کمپنیوں کی فیکٹریوں کو امریکی چِپ ساز آلات بھیجنے کے لیے خصوصی امریکی برآمدی لائسنس درکار ہوگا۔

سام سنگ اور ایس کے ہائنکس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ ٹی ایس ایم سی نے فوری طور پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ امریکی محکمہ تجارت بھی دفتری اوقات کے بعد دستیاب نہ ہو سکا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ چین کی جدید امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی محدود کرنے کے لیے برآمدی کنٹرولز کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے، جنہیں ان کے بقول سابقہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں نسبتاً نرم رکھا گیا تھا۔

لازمی پڑھیں: ہیکرز نے واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کرنے کا نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا

واضح رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی میموری چِپ ساز کمپنی سام سنگ اور دوسری بڑی کمپنی ایس کے ہائنکس کے لیے چین ایک اہم پیداواری مرکز ہے، خاص طور پر روایتی میموری چپس کے لیے، جن کی قیمتیں مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی طلب اور محدود سپلائی کے باعث تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔