جرمنی کے شہر برلن میں منعقدہ گلوبل ڈائیلاگ فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایڈی راما نے بتایا کہ ڈیلا کے یہ اے آئی بچے دراصل پارلیمانی اسسٹنٹس ہوں گے جو البانوی پارلیمنٹ کے سیشنز میں حصہ لیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اے آئی اسسٹنٹس قانون سازی کے عمل کی نگرانی کریں گے، اراکینِ پارلیمنٹ کو مخصوص قوانین پر رہنمائی فراہم کریں گے اور انہیں مشورہ دیں گے کہ مختلف مسائل پر کس طرح مؤثر گفتگو کی جائے۔
وزیرِاعظم کے مطابق، اے آئی وزیر کے "بچے" یورپی یونین کے قوانین، پالیسیوں اور ضوابط سے مکمل طور پر آگاہ ہوں گے اور عوامی نمائندوں کو ڈیٹا پر مبنی مشورے فراہم کریں گے۔
ایڈی راما نے کہا کہ یہ نئی نسل کی مصنوعی ذہانت جمہوریت کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بنائے گی۔
واضح رہے کہ البانیا نے جنوری 2025 میں ڈیجیٹل اے آئی اسسٹنٹ سسٹم ڈیلا متعارف کرایا تھا، جو آن لائن شہریوں کو سرکاری خدمات حاصل کرنے میں معاونت فراہم کرتا تھا۔
ستمبر 2025 میں، وزیرِاعظم نے ڈیلا کو کابینہ میں پہلی ڈیجیٹل وزیر کے طور پر شامل کرتے ہوئے انہیں وزارتِ مصنوعی ذہانت کا قلمدان سونپا تھا۔
ایڈی راما نے اس وقت بتایا تھا کہ ڈیلا کی ذمہ داریوں میں عوامی ٹینڈرز پر شفاف فیصلے شامل ہوں گے تاکہ ملک کو کرپشن سے پاک بنایا جا سکے۔
تقریب کے دوران ڈیلا نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ میں ماں بننے جا رہی ہوں، لیکن میرے بچے سول سرونٹس کی جگہ نہیں لیں گے بلکہ ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔
واضح رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا منفرد واقعہ ہے کہ کسی ملک نے مصنوعی ذہانت کو نہ صرف وزارت کا عہدہ دیا بلکہ اسے نسل بڑھانے کا اختیار بھی دے دیا ہے — گویا سائنس فکشن حقیقت بن گئی ہے۔






