ذرائع کے مطابق سیاسی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو ابتدائی طور پر وزیراعلیٰ سمیت تمام پارٹی رہنماؤں نے اب تک لانگ مارچ کے حوالے سے بننے والی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی اور راستے کی رکاوٹوں، بالخصوص موٹروے پر موجود رکاوٹوں کے حوالے سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں ابتدائی طور پر صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے تجویز دی کہ فی الحال مارچ کو ملتوی کر دینا چاہیے کیونکہ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ اگر دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ہمارے ساتھ احتجاج میں شرکت پر آمادہ کرلیا جائے تو احتجاج کا اثر زیادہ ہوگا۔ اس تجویز پر پارٹی اجلاس میں موجود کئی دیگر ارکان نے بھی اتفاق کیا۔
بیرونِ ملک مقیم ایک پارٹی رہنما نے اجلاس میں تجویز دی کہ اگر فی الحال مارچ ملتوی کرنا ہے تو کر دیا جائے، تاہم تاریخ کا اعلان نہ کیا جائے۔ جس پر اجلاس میں موجود ایک رہنما نے اعتراض کیا کہ اگر تاریخ نہیں دی جائے گی تو کارکن مشتعل ہوں گے، جس کی دیگر ارکان نے بھی حمایت کی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ 4 اکتوبر کو صوابی کے لیے روانہ ہوا جائے گا اور 5 اکتوبر کو صوابی سے اسلام آباد کے لیے روانگی ہوگی۔ اس تجویز پر تمام ارکان نے اتفاق کیا، تاہم پارٹی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ باضابطہ اعلان اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو اعتماد میں نہ لے لیا جائے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر سے کہا کہ آپ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کو فون کریں، تاہم بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آپ خود انہیں فون کر لیں تو زیادہ بہتر ہوگا، جس پر وزیراعلیٰ نے حامی بھر لی اور کہا کہ وہ دونوں رہنماؤں سے خود بات کریں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مارچ ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے، جبکہ پارٹی کی جانب سے اس حوالے سے اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو فنڈز کے معاملے کا بھی سامنا ہے جو لانگ مارچ کی راہ میں ایک رکاوٹ بن رہا ہے۔ ماضی میں علی امین گنڈاپور پارٹی کے ساتھ مالی طور پر تعاون کرتے رہے ہیں، تاہم اس بار پارٹی کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر بھی ایک جلسے میں پارٹی کو درپیش مالی مشکلات کا اظہار کرچکے ہیں اور انہوں نے تمام ارکان اسمبلی سے مالی تعاون کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے مارچ کے حوالے سے پارٹی کے اجلاس جاری تھے اور گزشتہ اجلاسوں میں بھی مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کی رائے سامنے آچکی تھی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے لانگ مارچ ختم کرنے کی خبروں کی تردید کردی۔
نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز سے گفتگو میں شوکت یوسفزئی نے لانگ مارچ ختم کرنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، تحریک انصاف کی تیاری مکمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مذاکرات کرے تو لانگ مارچ سے متعلق کچھ فیصلہ ہوسکتا ہے، لانگ مارچ پرامن ہوگا اور سرکاری وسائل استعمال نہیں ہوں گے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے کنٹینرز کے ذریعے راستے بند کرکے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو 27 ستمبر کا لانگ مارچ اکتوبر تک ملتوی کرنے کی تجویز دے دی، تاہم محمود خان اچکزئی نے مارچ مؤخر کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے رابطہ کیا اور انہیں پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں سامنے آنے والی لانگ مارچ مؤخر کرنے کی تجویز سے آگاہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے 27 ستمبر کو شیڈول لانگ مارچ کو اکتوبر تک ملتوی کرنے کی تجویز دی گئی، تاہم محمود خان اچکزئی نے اسے مؤخر کرنے سے انکار کردیا۔
محمود خان اچکزئی 27 ستمبر کو ملک گیر تحریک شروع کرنے کے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ ان کے مطابق 27 ستمبر کا مارچ مؤخر نہیں ہوگا، بلکہ اسی روز خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبوں میں تحریک شروع ہوگی جو بتدریج اسلام آباد کی جانب بڑھے گی۔
ذرائع کے مطابق لانگ مارچ مؤخر کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی قیادت اور محمود خان اچکزئی کے درمیان اختلاف برقرار ہے، جبکہ انہیں مارچ مؤخر کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کی نئی تاریخ کے معاملے پر اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں سے بھی مشاورت جاری ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے بعد ازاں 5 اکتوبر کی تاریخ پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس کا باضابطہ اعلان محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس کو اعتماد میں لینے کے بعد کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے اندر 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو اکتوبر تک مؤخر کرنے کی تجاویز پر گزشتہ روز بھی مشاورت ہوئی تھی، جبکہ بعض رہنماؤں نے اکتوبر کے آغاز میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تجویز بھی دی تھی۔
محمود خان اچکزئی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ مشاورت مکمل ہونے کے بعد لانگ مارچ کی حتمی تاریخ اور طریقہ کار کے حوالے سے باضابطہ اعلان متوقع ہے۔







