گھریلو سطح پر یہ شادی بیاہ اور سماجی تقریبات سے جڑی ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی غیر یقینی کے دوران محفوظ سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی مانی جاتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی اُتار چڑھاؤ اور اب نمایاں کمی نے خریداروں، سرمایہ کاروں اور صرافہ مارکیٹ سے وابستہ افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ کمی عارضی ہے یا آئندہ مزید کمی ہو سکتی ہے۔
عالمی منڈیوں میں بے یقینی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور امریکہ کی معاشی پالیسیوں کے اثرات پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی نمایاں ہیں۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود، مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں اور ڈالر کی قدر میں اُتار چڑھاؤ نے عالمی سطح پر قیمتوں کو دباؤ میں رکھا ہے۔
صرافہ مارکیٹ ڈیلرز کے مطابق فی تولہ سونا 30 ہزار روپے سے زائد سستا ہو کر 5 لاکھ 37 ہزار 362 روپے پر آ گیا ہے، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 لاکھ 60 ہزار 701 روپے ہو گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں بھی فی اونس سونا کم ہو کر 5 ہزار 150 ڈالر پر آ گیا ہے۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں فی تولہ چاندی ایک ہزار 106 روپے کم ہو کر 11 ہزار 69 روپے اور 10 گرام چاندی 9 ہزار 489 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ عالمی سطح پر فی اونس چاندی کی قیمت 105.94 ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ عالمی معاشی حالات، امریکی مالیاتی پالیسیاں اور سرمایہ کاروں کا رویہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات بڑے سرمایہ کار منافع سمیٹنے کے لیے فروخت کرتے ہیں، جس سے قیمتوں میں وقتی مگر نمایاں کمی آتی ہے۔
سرمایہ کاروں کا موقف محتاط مگر پُرامید ہے۔ ان کے مطابق سونا اور چاندی طویل المدت سرمایہ کاری کے لیے محفوظ سمجھی جاتی ہیں اور روزانہ کی قیمتوں کی بنیاد پر فیصلے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
جیولرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ نے زیورات کی فروخت کو متاثر کیا ہے اور کئی خریدار مزید کمی کے انتظار میں خریداری مؤخر کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں سونا ایک ثقافتی اور سماجی ضرورت بھی ہے، اس لیے اس کی طلب مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتی۔
ماہرین کا مجموعی مؤقف ہے کہ حالیہ کمی عالمی سیاسی و معاشی حالات، ڈالر کی قدر اور مارکیٹ کے نفسیاتی دباؤ کا نتیجہ ہے، جبکہ طویل مدت میں سونا اور چاندی اپنی اہمیت برقرار رکھیں گے۔






