کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ شوگر ملیں جان بوجھ کر سست روی سے کام لے رہی ہیں، جس کے باعث گنا خشک ہو جاتا ہے اور کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس تناظر میں گنے کی قیمت 600 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
تنظیم نے انکشاف کیا کہ ناقص حکومتی پالیسیوں کے باعث صوبے میں گندم کی کاشت میں 32 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جو غذائی تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ گندم کی امدادی قیمت 5,000 روپے فی من مقرر کی جائے اور کاشتکاروں سے براہ راست 15 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ اور معیشت کے حقیقی معمار ہیں، اعظم نذیر تارڑ
اس کے علاوہ ٹماٹر، پیاز اور کھجور کی قیمتوں میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اجناس کی برآمدات فوری طور پر شروع کرنے اور سرسوں کی قیمت 10,000 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا، تاکہ قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔





