ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق یہ پیش رفت مئی 2025 میں لگائی گئی فائٹو سینیٹری پابندیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں صرف تین پاکستانی کمپنیوں کو برآمدات کی اجازت دی گئی ہے جن میں ایم/ایس چیس انٹرنیشنل، ایم/ایس زاہد کنو گرائنڈنگ اینڈ ویکسنگ پلانٹ، اور ایم/ایس نیشنل فروٹ شامل ہیں۔
پاکستان کے تجارتی مشن ماسکو کی سربراہ شبانہ عزیز کے مطابق مزید برآمد کنندگان کو بھی جلد رجسٹر کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور پاکستان ہارٹی کلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی کے تعاون سے ورچوئل بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع کیا جا رہا ہے تاکہ اس نئے موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
پاکستان میں اس وقت تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ ٹن آلو کی پیداوار ہو رہی ہے، اور روسی منڈی تک رسائی سے اضافی پیداوار کو فروخت کرنے، مقامی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور کسانوں کی آمدن بڑھانے میں مدد ملنے کی توقع ہے، جبکہ برآمدی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔
یہ پیش رفت وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، محکمہ پلانٹ پروٹیکشن، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان ہارٹی کلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی اور ماسکو میں پاکستانی تجارتی مشن کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔
اس سے قبل پنجاب حکومت نے وفاق سے درخواست کی تھی کہ آلو اور کینو کی برآمدات کے لیے مال برداری کے اخراجات میں کمی کی جائے، جس میں ایران کے راستے ترسیل کے امکانات بھی شامل تھے تاکہ کاشتکاروں کو درپیش مشکلات کم کی جا سکیں۔
پنجاب کے وزیرِ زراعت سید عاشق حسین کرمانی کے مطابق حکومت کسانوں کے مسائل کے حل اور زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔






