سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ توانائی بحران نہ صرف تیل بلکہ گیس اور فرنس آئل پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ حکومت اسی لیے مارکیٹوں کے اوقات کار میں تبدیلی اور توانائی کی بچت کے دیگر اقدامات پر صوبوں سے مشاورت کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ شہباز شریف کی قیادت میں حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ عوام کو بڑھتی توانائی کی قیمتوں کے بوجھ سے بچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم سب توانائی بچائیں گے تو ملک پر دباؤ کم ہوگا اور حالات میں جلد بہتری آئے گی۔
توانائی کا بحران نہ صرف تیل بلکہ گیس اور فرنس ائل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جس کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں کے اوپر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت مارکیٹوں کے اوقات میں تبدیلی اور بچت کے دیگر اقدامات پر صوبوں سے مشاورت کر رہی ہے۔
— Awais Leghari (@akleghari) April 3, 2026
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہم نے عوام کو اس…
وفاقی حکومت نے گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 184 روپے 49 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 458 روپے 40 پیسے اور 520 روپے 35 پیسے مقرر کی گئی ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر عوام اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے اور سیاسی جماعتوں نے احتجاج کا بھی اعلان کیا ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ قیمتوں میں اضافہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے اور یہ صورت حال عالمی سطح پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔





