شرح سود میں کیے گیے اضافے کے سبب رئیل اسٹیٹ میں اچانک کمی ہوئی۔ سال 2024 میں مہنگائی کے سبب رئیل اسٹیٹ کا کاروبارشدید نقصان میں رہا مگر باقی سرمایه کاراداروں کی نسبت رئیل اسٹیٹ میں لچک دیکھنے کو ملی۔
مئی 2023 میں ورلڈ بینک کے لگائے گئے تخمینے میں ملکی دولت کا 60 سے 70 فیصد حصہ پاکستانی رئیل اسٹیٹ اکانومی کا تھا جو تقریبا 700 بلین ڈالرز بنتا تھا۔ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ جی ڈی پی کے تقریبا 2.8 فیصد پر مشتمل تھی۔
رئیل اسٹیٹ کی ابتدا آزادی سے پہلے کی ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل بند روڈ کے قریب پرانےکراچی میں رئیل اسٹیٹ ایجنسیاں موجود تھیں، قیامِ پاکستان کے بعد شہروں کی جانب نقل مکانی سے رئیل اسٹیٹ کاروبار بڑھا اورضلع جنوبی کراچی رئیل اسٹیٹ کی ریڑھ کی ہڈی بنا۔
ڈی ایچ اے کراچی 50 کی دہائی میں بنایا گیا تھا۔ رئیل اسٹیٹ میں بڑا منافع 1973 میں بھٹو حکومت میں ایمنسٹی اسکیم کے آغاز کے بعددیکھنے کو ملا، مگر 1977 میں انتخابات اور ڈی ایچ اے میں تباہ کن سیلاب کے بعد رئیل اسٹیٹ بری طرح ناکام ہوا۔
موجودہ رئیل اسٹیٹ کی بنیاد 90 کی دہائی میں رکھی گئی۔ 1992 میں مارکیٹ میں رئیل اسٹیٹ نے کامیابی سمیٹی، مگر 1997 میں زوال کا شکار ہوگئی۔
لازمی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کا شکار، ہنڈرڈ انڈیکس میں چھ ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ
2013 میں ایک بار پھر رئیل اسٹیٹ نے اپنے قدم جمالیے، 2015 میں رہائشی پلاٹوں میں 5 سے 7 فیصد، جب کہ کمرشل پراپرٹی میں 15 سے 20 فیصد کا حیران کن منافع ہوا۔
کورونا، سیاسی عدم استحکام اور ڈگمگاتی ملکی معیشت کے سبب 2019 کے بعد ایک بارپھررئیل اسٹیٹ کی قمر ٹوٹ گئی، چھوٹے رئیل اسٹیٹ تاجروں کو گزشتہ برسوں میں بہت زیادہ نقصان پہنچاہے ۔
نجی ویب سائٹ ’اردو پوائنٹ‘کے مطابق آل پاکستان رئیل اسٹیٹ کے ماہر حسام علی کا کہنا تھا کہ 2024 کی پہلی ششماہی میں مہنگائی کی اوسط 2.30فیصد تھی۔ باقی کاروبار کی نسبت رئیل اسٹیٹ میں خاصی لچک رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں معاشی بدحالی کے باوجود رئیل اسٹیٹ کی قدر برقرار رہی۔
انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں افراطِ زر کے ساتھ بڑھتی ہیں، ملک میں پراپرٹی قلیل مدتی وطویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے بہت سے مواقع پیش کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے جوہری و حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے متعلق نیشنل ایکسپورٹ کنٹرول لسٹس اپ ڈیٹ کر دیں
زمین ڈاٹ کام کے مطابق گزشتہ دہائی میں لاہور،اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں رہائشی املاک کی قیمتوں میں 10 سے 15 مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
جرمن شماریاتی پورٹل اسٹیٹسٹا کے لگائے گئے تخمینے میں 2025 میں پاکستانی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا 2.03ٹریلین ڈالر پر پہنچنے کا امکان رہا، سالانہ شرح نمو 3.75فیصد ہونے کی توقع کی گئی، جس کی وجہ سے مارکیٹ2029 میں 2.41ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
رئیل اسٹیٹ کے مثبت و منفی دونوں اثرات پائے جاتے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کا فوائد یہ ہیں کہ ایک تو اس سے روزگار پیدا ہوتا ہے اوردوسرا منافع سرمایہ کاروں کو راغب کرتا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کریں۔ انفراسٹرکچرکی بہتری اور پلاٹس کے لین دین سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے۔
رئیل اسٹیٹ کم آمدنی والے طبقے پر گہرے اثر چھوڑتا ہے،قیمتوں کے بڑھ جانے سے نچلاطبقہ اپنے خود کے گھر نہیں بنا سکتا۔غیر قانونی قبضے اور رشوت خوری جیسی سماجی برائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔
کارخانے لگانے سے پیسہ بڑھتا ہے،پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے مگررئیل سٹیٹ کے کاروبار میں پیسہ منجمد ہوجاتا ہے،یہ ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔






