ہول سیل تاجروں کے مطابق ریٹیلرز ہول سیل ریٹ سے دوگنا یا اس سے بھی زیادہ قیمت وصول کر رہے ہیں۔ اس وقت ہول سیل مارکیٹ میں ٹماٹر 250 سے 300 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کے باعث صارفین نے خریداری محدود کر دی ہے اور اکثر افراد صرف 250 گرام تک ٹماٹر خریدنے پر مجبور ہیں تاکہ فوری ضرورت پوری کی جا سکے۔

فلاحی انجمن ہول سیل ویجیٹیبل مارکیٹ سپر ہائی وے کے صدر حاجی شاہ جہان کے مطابق مارکیٹ میں ٹماٹروں کی قلّت کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، بلوچستان کی فصل تقریباً ختم ہو چکی ہے، جب کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد بھی بہت کم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ سرحدی حالات کے باعث افغانستان سے ٹماٹروں کی ترسیل رک گئی ہے، جب کہ سندھ کی نئی فصل آئندہ ماہ منڈیوں میں آنے کی توقع ہے۔

حاجی شاہ جہان نے کہا ہے کہ مارکیٹ میں نرخ نامے نہ ہونے کے باعث ریٹیلرز اپنی مرضی سے قیمتیں مقرر کر رہے ہیں، جس سے ناجائز منافع خوری میں اضافہ ہوا ہے۔ مٹر، توری، ادرک سمیت دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں بھی 50 سے 100 روپے فی کلو تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سبزیوں کی بڑھتی قیمتوں کے برعکس مرغی کے گوشت میں معمولی ریلیف دیکھنے میں آیا ہے۔ زندہ مرغی کی اوسط قیمت 300 سے 390 روپے فی کلو تک گر گئی ہے، جو ستمبر میں 440 سے 540 روپے فی کلو تھی۔

اسی طرح بغیر ہڈی والا مرغی کا گوشت بھی 1,000 سے 1,100 روپے فی کلو سے کم ہو کر 650 سے 800 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، فی لیٹر پیٹرول کتنے کا ہوگیا؟

سندھ پولٹری ہول سیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری کمال اختر صدیقی کے مطابق قیمتوں میں کمی کی وجہ پولٹری فارموں میں پیداوار میں اضافہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد بند ہونے سے مرغیوں اور انڈوں کی ترسیل رک گئی ہے، جس کے باعث زیادہ وزن والی مرغیاں کم قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ بعض علاقوں میں زندہ مرغی 400 روپے، جب کہ ٹانگ کے ٹکڑے 350 روپے فی کلو میں دستیاب ہیں۔

واضح رہے کہ انڈوں کی قیمتیں اب بھی بلند ہیں، جو 310 سے 360 روپے فی درجن کے درمیان برقرار ہیں۔ تاجر کہتے ہیں کہ اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے بعد طلب میں اضافہ قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔