اس تیزی کی واپسی کی وجہ خریداری کی سرگرمیاں تھیں جو آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، او ایم سیز، ریفائنری اور پاور جنریشن جیسے اہم شعبوں میں دیکھنے کو ملی۔
جمعرات کو مارکیٹ میں حبکو، اے آر ایل، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایچ بی ایل، میبل، ایم سی بی اور یو بی ایل جیسے نمایاں ہیوی ویٹ اسٹاکس مثبت زون میں ٹریڈ کرتے نظر آئے جو اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کاروں نے مارکیٹ میں مزید سرمایہ کاری کے امکانات دیکھے ہیں۔
اسی دن پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے سعودی عرب کے دورے کے دوران ہونے والے اس معاہدے میں واضح کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر جارحیت کو دونوں ممالک پر جارحیت سمجھا جائے گا، جس کا عالمی سطح پر بھی اثر ہو سکتا ہے۔

عالمی سطح پر بھی اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ رہا۔ امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں کمی کی، لیکن آئندہ پالیسی پر محتاط رویہ اختیار کرنے کا عندیہ دیا، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی کیفیت دیکھنے کو ملی۔ ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک شیئرز انڈیکس 0.1 فیصد کم ہوا، جبکہ جنوبی کوریا اور تائیوان کی مارکیٹس میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔
بدھ کو فیڈرل ریزرو نے پہلی بار اس سال شرح سود میں کمی کی لیکن ساتھ ہی مستقبل میں مزید کمی کے اشارے بھی دیے جس سے عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تناؤ بڑھ گیا۔ فیڈ کے چیئرمین جیروم پاول نے کہا کہ یہ فیصلہ خطرات کے انتظام کے پیش نظر کیا گیا ہے اور فوری طور پر تیز رفتار کمی کی ضرورت نہیں۔
واضع رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کی واپسی اور عالمی مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ اس بات کا غماز ہے کہ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں تاہم اس کے باوجود بعض شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات نظر آ رہے ہیں جس کا اثر پاکستان کی اقتصادی ترقی پر پڑ سکتا ہے۔





