یہ اتفاقِ رائے منامہ میں قصر القدیبیہ میں ہونے والی ملاقات میں ہوا، جہاں دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کو گفتگو کا محور بنایا۔ اس وقت پاکستان اور بحرین کے درمیان سالانہ تجارت 550 ملین ڈالرز سے زائد ہے، جسے مزید وسعت دینے کے لیے جلد حتمی مرحلے میں داخل ہونے والے پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ اور ویزا پالیسی میں نرمی کو بنیادی عوامل قرار دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بحرینی سرمایہ کاروں کو فوڈ سیکیورٹی، آئی ٹی، تعمیرات، کان کنی و معدنیات، قابل تجدید توانائی، صحت اور سیاحت کے شعبوں میں شراکت داری کی دعوت دی۔
The Prime Minister of Pakistan met His Majesty the King of Bahrain H.R.H. Hamad bin Isa Al-Khalifa in Manama today and reaffirmed the strong and historic partnership between the two brotherly nations. The PM thanked His Majesty for the warm hospitality and expressed appreciation… pic.twitter.com/adZOiwRQgQ
— PTV News (@PTVNewsOfficial) November 26, 2025
انہوں نے کراچی، گوادر اور خلیفہ بن سلمان پورٹ کے درمیان پورٹ ٹو پورٹ کنیکٹیویٹی بڑھانے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جاسکے۔
دونوں رہنماؤں نے دفاعی اور سلامتی کے تعاون کا بھی جائزہ لیا اور سائبر سیکیورٹی، تربیت، دفاعی پیداوار اور اطلاعات کے تبادلے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے بحرین میں مقیم ڈیڑھ لاکھ سے زائد پاکستانیوں کے لیے وہاں کی قیادت کی حمایت اور سہولتوں کو سراہا، جب کہ اسلام آباد میں کنگ حمد یونیورسٹی کی تعمیر اور پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی میں بحرین کی معاونت پر اظہارِ تشکر کیا۔
علاوہ ازیں، غزہ کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ حالیہ اقدامات سے خطے میں دیرپا استحکام کی راہ ہموار ہوگی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے اسٹریٹجک، اقتصادی، سیکیورٹی اور عوامی رابطوں میں مزید پیش رفت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔






