افغانستان جو ماضی میں پاکستان کی ادویات کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈیوں میں شمار ہوتا تھا، سرحدی بندشوں کے باعث اب بڑی حد تک ناقابلِ رسائی ہو چکا ہے۔

 پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید کے مطابق اکتوبر 2025 سے طورخم اور چمن سرحدی راستوں کی بندش کے نتیجے میں ادویات سے لدے ٹرک پھنس گئے، ترسیل کا نظام درہم برہم ہو گیا اور مقامی دوا ساز کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

ڈاکٹر قیصر وحید کا کہنا ہے کہ سرحدی بندش نے عملی طور پر ایک ایسی منڈی کو منجمد کر دیا ہے جو پاکستانی فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے انتہائی اہم تھی۔ ان کے مطابق کئی کمپنیوں کا کیش فلو متاثر ہوا ہے اور اب یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا پاکستان مالی سال 2026 میں ادویات کی برآمدات کا ایک ارب ڈالرز کا ہدف حاصل کر پائے گا یا نہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق افغانستان تاریخی طور پر پاکستان کی ادویات کی برآمدات میں 150 سے 200 ملین ڈالرز کا حصہ ڈالتا رہا ہے، جو مجموعی ادویات برآمدات کا تقریباً 35 فیصد بنتا ہے۔ تاہم ڈیورنڈ لائن کے ساتھ بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور سرحدی ناکہ بندی نے کمپنیوں کو اپنی لاجسٹکس پر نظرِ ثانی پر مجبور کر دیا ہے، جس کے تحت بعض ادارے اسلام آباد اور کابل کے درمیان محدود ہفتہ وار فضائی ترسیل کا سہارا لے رہے ہیں، تاہم یہ حل مہنگا اور ناکافی قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر قیصر وحید کے مطابق اگر برآمدات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہتیں تو پاکستان رواں برس باآسانی ایک ارب ڈالرز کی حد عبور کر سکتا تھا، خصوصاً اگر طبی آلات، جراحی کے آلات، نیوٹراسیوٹیکلز اور فوڈ سپلیمنٹس کو بھی شامل کیا جاتا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی دواسازی کی صنعت نے مالی سال 2025 میں غیر معمولی ترقی کرتے ہوئے بیرونِ ملک 457 ملین ڈالر کی فروخت حاصل کی، جو دو دہائیوں میں تیز ترین اضافہ اور برآمدی شعبے میں پانچواں بڑا زمرہ ہے۔

تاہم افغانستان کے متبادل کے طور پر نئی منڈیاں تلاش کرنا ایک طویل المدتی چیلنج ہے، کیونکہ کسی بھی نئے ملک میں ادویات کی رجسٹریشن اور سیلز چینلز قائم کرنے میں چار سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان نے سرحدی جھڑپوں، بندشوں اور ادویات کی ممکنہ قلت کے پیشِ نظر مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان آنکھوں میں ڈراپس ڈال رہے ہیں اور عینک کا نمبر بھی تبدیل کر لیا ہے، علیمہ خان

افغانستان کی وزارت برائے عوامی صحت اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں استعمال ہونے والی تقریباً تین ہزار اقسام کی ادویات میں سے فی الحال صرف 20 فیصد ادویات مقامی طور پر تیار کی جا رہی ہیں، جب کہ باقی ادویات بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں۔

بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کو تقریباً تین ہزار اقسام کی ادویات درکار ہوتی ہیں، جن میں سے اس وقت صرف 600 ادویات ملک کے اندر تیار کی جا رہی ہیں۔

فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ پروڈکٹس ایسوسی ایشن کے سربراہ احمد سعید شمس کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی ادویات زیادہ تر وہ ہیں جو عام اور زیادہ استعمال میں آتی ہیں۔ ان کے مطابق وزارتِ صحت کے پاس 600 ادویات رجسٹرڈ ہیں، جو مجموعی مارکیٹ کی تقریباً 25 فیصد ضرورت پوری کر پاتی ہیں۔

احمد سعید شمس نے بتایا کہ ان کی فارماسیوٹیکل کمپنی بختار گزشتہ دو دہائیوں سے کام کر رہی ہے اور اس وقت مارکیٹ کو تقریباً 60 اقسام کی ادویات فراہم کر رہی ہے، تاہم بڑھتی ہوئی ضروریات کے باعث وہ الفا ون کے نام سے ایک نئی کمپنی قائم کر رہے ہیں، جو مزید 60 اقسام کی ادویات تیار کرے گی۔

ان کے مطابق اس مقصد کے لیے مشینری پہنچ چکی ہے اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی اجازت کے بعد پیداوار شروع کر دی جائے گی۔

افغان وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ کابل میں ایک ہزار ایکڑ زمین فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے لیے مختص کر دی گئی ہے، جہاں نئی فیکٹریاں قائم کر کے مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کو فروغ دیا جائے گا۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف اندرونی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ مستقبل میں برآمدات کا آغاز بھی ممکن ہو سکے گا۔

ادھر طالبان حکومت نے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر پابندی کے بعد انڈیا، ایران، چین، ترکی، بنگلہ دیش اور ازبکستان جیسے ممالک سے ادویات کی درآمد کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جب کہ روسی ادویات کی ازبکستان اور تاجکستان کے راستے افغانستان آمد کے امکانات بھی موجود ہیں۔

افغانستان میں تیار کی جانے والی ادویات کے لیے خام مال زیادہ تر چین سے منگوایا جا رہا ہے، جب کہ مقامی دوا ساز کمپنیوں میں غیر ملکی ماہرین بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس وقت افغانستان میں تقریباً 400 کمپنیاں ایسی ہیں جو ہر سال بیرونِ ملک سے کروڑوں ڈالرز مالیت کی ادویات اور میڈیکل مصنوعات درآمد کرتی ہیں۔

مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیاں طالبان حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ درآمدی ادویات پر ٹیرف میں اضافہ کیا جائے تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے، جس سے افغانستان میں خود کفالت کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق پاک افغان سرحدی بندش نے جہاں پاکستان کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، وہیں اس صورتحال نے افغانستان کو متبادل ذرائع اور مقامی پیداوار کی طرف تیزی سے مائل کر دیا ہے، جو خطے میں فارماسیوٹیکل تجارت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔