وزیراعظم نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک ماہ کے لیے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتیں دباؤ کا شکار ہیں، تاہم حکومت نے حتی المقدور کوشش کی ہے کہ عوام پر بوجھ کم کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں 129 ارب روپے کی سبسڈی دی جا چکی ہے، جبکہ مزید ریلیف اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کے لیے فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے بھی خصوصی پیکج متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار، بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار اور پبلک ٹرانسپورٹ کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ مال بردار گاڑیوں کو فی لیٹر 100 روپے سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے زرعی شعبے کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے کسانوں کو 1500 روپے فی ایکڑ امداد دی جائے گی، جبکہ ریلوے کی اکانومی کلاس کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ یہ تمام فیصلے وسیع قومی مشاورت کے بعد کیے گئے، جس میں صدر مملکت، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور عسکری قیادت بھی شریک تھی۔

انہوں نے صوبائی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس قومی مقصد کے لیے اپنے وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت عوامی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور معمولات زندگی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں جاری کشیدگی جلد ختم ہوگی اور امن قائم ہوگا، جس سے معاشی دباؤ میں کمی آئے گی۔