وزیراعلیٰ نے سندھ کو ترقی کے لیے تیار صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک  کروڑ 40 لاکھ ایکڑ زرخیز زرعی زمین، صنعتی زونز کی تیزی سے ترقی اور سازگار سرکاری پالیسیاں سندھ کو سرمایہ کاری کے لیے ایک مثالی خطہ بناتی ہیں۔

اجلاس میں صوبائی وزرا شرجیل میمن، ضیاء الحسن لنجار، محمد علی ملکانی سمیت متعلقہ سیکریٹریز اور چینی وفود نے شرکت کی۔

ملاقات میں کراچی یا حیدرآباد میں بائیوٹیکنالوجی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ لیبز کے قیام، اسمارٹ زراعت، میڈیسنل پلانٹس، نامیاتی کھاد، ویٹرنری ہیلتھ، زیادہ پیداوار دینے والی موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ فصلوں کی ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدید بیج مراکز اور بائیو فرٹیلائزر یونٹس کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے چینی سرمایہ کاروں کو دواسازی، بائیوٹیک، زرعی جدیدیت اور لائیو اسٹاک میں مشترکہ منصوبوں کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔

سندھ کی زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل، چمڑے، چاول اور سی فوڈ کی برآمدات کو چین اور افریقی ممالک سے جوڑنے کے لیے سہ فریقی سندھ، چین اور افریقہ انویسٹمنٹ فورم کے قیام کی تجویز پیش کی گئی۔

چینی وفد کو دھابیجی اسپیشل اکنامک زون، خیرپور ایس ای زیڈ اور نوری آباد صنعتی علاقے کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی گئی تاکہ ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا جا سکے۔

اجلاس کے بڑے حصے میں لائیو اسٹاک میں جدید بائیوٹیکنالوجی، ویکسین کی تیاری، بیماریوں کی تشخیص کے نظام، ٹریس ایبلیٹی سسٹمز اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر گفتگو ہوئی۔

وفد کو بتایا گیا کہ پاکستان کا لائیو اسٹاک شعبہ قومی جی ڈی پی کا 14.97 فیصد ہے، ملک میں 237 ملین لائیو اسٹاک ہیڈز موجود ہیں جبکہ سالانہ 72 ملین ٹن دودھ پیدا ہوتا ہے، جس میں سندھ کا حصہ 23 تا 27 فیصد ہے۔

اجلاس میں مشترکہ منصوبوں کے لیے لائیو اسٹاک ٹیگنگ اور ٹریس ایبلیٹی، سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کے ساتھ ویکسین پیداوار،  بیماریوں کی تشخیص کے جدید نظام، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سندھ لائیو اسٹاک رجسٹریشن اتھارٹی کی فعالی پر اتفاق  کیا گیا۔

مزید برآں، صوبائی وزیر محمد علی ملکانی کی سربراہی میں ٹاسک گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ پاک چین لائیو اسٹاک تعاون سے متعلق ایم او یوز پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

فریقین نے فیصلہ کیا کہ ویکسین مینوفیکچرنگ شراکت داری کے آپریشنل، مالی اور لاجسٹک امور طے کرنے اور دیگر عملی منصوبے حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ ہفتے فالو اپ ورکنگ گروپ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔