جنوبی کوریائی میڈیا کے مطابق کاروبار کے آغاز پر ڈالر کے مقابلے میں وون کی شرحِ مبادلہ 1,479 وون رہی، جو پچھلے دن کے مقابلے میں 10.9 وون زیادہ تھی۔
مارکیٹ کھلتے ہی کچھ دیر کے لیے شرحِ مبادلہ 1,480 وون سے بھی تجاوز کر گئی، تاہم دن کے اختتام تک اس میں کچھ کمی آ گئی۔ جنوبی کوریا میں دن کی ٹریڈنگ صبح 9 بجے سے سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ تک جاری رہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وون کی قدر میں کمی کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے طویل ہونے کے خدشات ہیں۔ جب عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھتے ہیں تو سرمایہ کار عموماً خطرناک سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وون جیسی کرنسیوں کی قدر دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔
🚨 BREAKING — South Korea:
— Global Affairs 24 (@GlobalAffair24) March 5, 2026
Asian markets fall as oil shock fears grow, South Korea’s currency drops to a 17-year low.#TelAviv#IranWar#TelAvivBlastpic.twitter.com/AGtXE7MOAm
ادھر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ نیویارک مرکنٹائل ایکسچینج میں اپریل کی ترسیل کے لیے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 8.51 فیصد اضافے کے بعد 81.01 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو جولائی 2024 کے بعد گزشتہ ایک سال اور آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اسی طرح عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بھی لندن کی آئی سی ای فیوچرز ایکسچینج میں 4.93 فیصد اضافے کے ساتھ 85.41 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔
ہانا سیکیورٹیز کے محقق جیون کیو یون کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو خام تیل کی درآمدی لاگت بھی بڑھ جائے گی، جس سے جنوبی کوریا کی تجارتی شرائط متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال جنوبی کوریا کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کو کم کر سکتی ہے اور اس سے وون پر مزید گراوٹ کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔






