عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ 1.4 فیصد کمی کے بعد 4 ہزار 470 ڈالر 56 سینٹ فی اونس پر آگیا، جب کہ جمعے کو سونے نے 4 ہزار 549 ڈالر 71 سینٹ کی تاریخی بلند ترین سطح کو چھوا تھا۔ امریکی گولڈ فیوچرز فروری ڈیلیوری کے لیے 1.3 فیصد کمی کے ساتھ 4 ہزار 493 ڈالر 20 سینٹ فی اونس پر ٹریڈ ہوتے رہے۔

اسپاٹ سلور میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور قیمت 4.8 فیصد گر کر 75 ڈالر 32 سینٹ فی اونس ہوگئی، جب کہ اس سے قبل چاندی نے سیشن کے دوران 83 ڈالر 62 سینٹ کی آل ٹائم ہائی سطح کو چھوا تھا۔

پلاٹینم کی قیمت 6 فیصد کمی کے بعد 2 ہزار 305 ڈالر 15 سینٹ فی اونس پر آگئی، حالانکہ دن کے آغاز میں یہ 2 ہزار 478 ڈالر 50 سینٹ کی ریکارڈ سطح تک پہنچی تھی۔ اسی طرح پیلیڈیم میں 13.2 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمت 1 ہزار 669 ڈالر 11 سینٹ فی اونس ہوگئی۔

ایکٹیو ٹریڈز کے تجزیہ کار ریکارڈو ایوانجیلسٹا کے مطابق قیمتوں میں یہ کمی بنیادی طور پر سال کے اختتام سے قبل سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات میں پیش رفت پر محتاط امید بھی قیمتوں پر دباؤ کا باعث بنی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ وہ اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔

رواں سال کے دوران سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 72 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجوہات میں امریکی مانیٹری پالیسی میں نرمی، ڈالر کی کمزوری، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مرکزی بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری شامل ہیں۔

چاندی نے سونے سے بھی بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے رواں سال 181 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، جس کی وجہ امریکا میں اسے اہم معدنیات کا درجہ دینا، سپلائی میں کمی اور صنعتی و سرمایہ کاری طلب میں اضافہ ہے۔

مارکیٹ کی نظریں فیڈرل ریزرو کے دسمبر اجلاس کے منٹس پر مرکوز ہیں جو منگل کو جاری کیے جائیں گے، جس سے آئندہ شرح سود سے متعلق اشارے ملنے کی توقع ہے۔ تاجروں کے مطابق اگلے سال دو بار شرح سود میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم شرح سود کے ماحول میں نان ییلڈنگ اثاثے جیسے سونا بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ تاہم یو بی ایس کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فیڈرل ریزرو کی جانب سے سخت پالیسی کا غیر متوقع اشارہ ملا یا بڑے پیمانے پر ای ٹی ایف آؤٹ فلو ہوئے تو سونے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔