ترجمان کے مطابق ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ غیر مجاز مقامات پر پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، کیونکہ صرف لائسنس یافتہ آئل ڈپو اور آئل مارکیٹنگ کے ریٹیل آؤٹ لیٹس کو ذخیرہ کرنے کی اجازت ہے۔

اوگرا کے ترجمان نے مزید کہا کہ صوبائی چیف سیکریٹریز کو ڈپٹی کمشنرز کو متحرک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کی صورت میں متعلقہ مقامات کو سیل کیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

دوسری جانب پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما سمیر حسین کا کہنا ہے کہ تیل کمپنیوں نے پیٹرول پمپس کی مرضی سے خریداری روک دی ہے اور گزشتہ ماہ کی فروخت کے اوسط کے حساب سے تیل سپلائی کیا جا رہا ہے۔

سمیر حسین کے مطابق کچھ کمپنیاں گزشتہ چھ ماہ کی اوسط فروخت کے حساب سے تیل فراہم کر رہی ہیں، جبکہ پی ایس او پمپس کو فروری کی اوسط سیل کے مطابق تیل دے رہی ہے۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے خدشے کے پیش نظر یہ حکمت عملی مناسب سمجھی جا رہی ہے۔