ترجمان کے مطابق ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ غیر مجاز مقامات پر پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، کیونکہ صرف لائسنس یافتہ آئل ڈپو اور آئل مارکیٹنگ کے ریٹیل آؤٹ لیٹس کو ذخیرہ کرنے کی اجازت ہے۔
اوگرا کے ترجمان نے مزید کہا کہ صوبائی چیف سیکریٹریز کو ڈپٹی کمشنرز کو متحرک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کی صورت میں متعلقہ مقامات کو سیل کیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
In an announcement, Ogra said the government had assured the public that the country currently held sufficient stocks of petroleum products to meet national demand and there was no need for panic buying or hoarding. https://t.co/FbOT8tYnU9
— Dawn.com (@dawn_com) March 5, 2026
دوسری جانب پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما سمیر حسین کا کہنا ہے کہ تیل کمپنیوں نے پیٹرول پمپس کی مرضی سے خریداری روک دی ہے اور گزشتہ ماہ کی فروخت کے اوسط کے حساب سے تیل سپلائی کیا جا رہا ہے۔
سمیر حسین کے مطابق کچھ کمپنیاں گزشتہ چھ ماہ کی اوسط فروخت کے حساب سے تیل فراہم کر رہی ہیں، جبکہ پی ایس او پمپس کو فروری کی اوسط سیل کے مطابق تیل دے رہی ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے خدشے کے پیش نظر یہ حکمت عملی مناسب سمجھی جا رہی ہے۔





