تقریب میں ترکیہ کے قونصل جنرل محمت ایمن شمشک اپنی اہلیہ کے ہمراہ شریک ہوئے، جب کہ پارلیمانی سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب سلمہ سعدیہ تیمور، سری لنکا کے اعزازی قونصل یاسین جوئیہ، ڈی جی ٹی ڈیپ رافعہ سید، سابق سینئر نائب صدر علی حسام اصغر، سابق نائب صدر حارث عتیق، ویمن کمیٹی کی کنوینر فردوس نثار، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین آمنہ رندھاوا، عامر علی، منظور حسین جعفری، کرامت علی اعوان، شعبان اختر، فیاض شیخ، عرفان قریشی، عمر سرفراز، رانا نثار اور رفعت ملک سمیت دیگر نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔
صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ لاہور چیمبر دوسری مرتبہ خواتین کے عالمی دن کی تقریب منعقد کر رہا ہے، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ادارہ خواتین کی معاشی خودمختاری اور ترقی پر بھرپور یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے خواتین کا کردار نہایت اہم ہے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے، لہٰذا خواتین کو ہنر اور جدید مہارتیں فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زراعت، ٹیکسٹائل اور دیگر معاشی شعبوں میں خواتین کا کردار نمایاں ہے، جبکہ لاہور چیمبر میں تین ہزار سے زائد وومن ممبر کمپنیز رجسٹرڈ ہیں۔
فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ صوبے کی وزیر اعلیٰ بھی ایک خاتون ہیں اور ان کی قیادت میں صوبہ ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال لاہور کی فضائی آلودگی (ایئر کوالٹی) میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے اور لاہور چیمبر آئندہ بھی خواتین کی بہتری اور کاروباری مواقع بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
ویمن کمیٹی کی کنوینر فردوس نثار نے کہا کہ لاہور چیمبر میں وومن انٹرپرینیورز لاؤنج قائم کیا گیا ہے، جہاں خواتین کو رہنمائی اور کاروباری معاونت فراہم کرنے کے لیے مختلف پروگرامز جاری ہیں۔ انہوں نے تمام محنتی خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین نے مشکلات کے باوجود اپنی محنت اور صلاحیتوں سے معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
سابق سینئر نائب صدر علی حسام اصغر نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کی ورکنگ پاپولیشن صرف 6 فیصد ہے، جسے بڑھا کر کم از کم 50 فیصد تک لانا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تمام کمپنیوں کی چیف ایگزیکٹو آفیسرز خواتین ہیں اور وہ وومن انٹرپرینیورشپ پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔
سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ نے کہا کہ کامیاب خواتین دیگر خواتین کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں اور لاہور چیمبر خواتین کی سفارشات کی روشنی میں عملی اقدامات کرے گا۔
پارلیمانی سیکرٹری سلمہ سعدیہ تیمور نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین نے اپنی تعلیم اور ہنر کے ذریعے معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے اور ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا وژن خواتین کو معاشی و سماجی طور پر بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب خواتین کے لیے یوٹیلیٹی پِچ، وومن ایمبیسڈر پروگرام، ڈے کیئر سنٹرز، وومن کیئر سنٹرز، ای بائیکس اور آسان قرضوں سمیت متعدد اسکیمیں شروع کر چکی ہے۔
تقریب کے اختتام پر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین میں لیڈرشپ ایوارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں سلمہ سعدیہ تیمور، سلمہ شاہین، صوفیہ وڑائچ، رافعہ سید، تبینہ اسلام، ترکیہ کے قونصل جنرل کی اہلیہ مسز محمت، ڈاکٹر شاہینہ آصف، ڈاکٹر بشریٰ عثمان، برٹش ہائی کمیشن کی فرسٹ سیکرٹری کلیئر ہیلی، سندس خالد، سیرت ہاشم، نادیہ نبیل، سونیا سوری، حمیرا ناصر، شائستہ ریاض، توقیر فاطمہ، زرتاشیہ عمر، امبرین عسکری اور فریحہ کمال شامل تھیں۔
تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ خواتین کی معاشی شمولیت کو فروغ دے کر قومی ترقی کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔






