صدر لاہور چیمبر، فہیم الرحمٰن سہگل نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان پہلے ہی خطے میں مسابقت کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہے، کیونکہ ملک میں کاروباری لاگت بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ اس کے باعث نہ صرف صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ برآمدات میں اضافہ بھی مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری لاگت کم کرنے کے بجائے اچانک نئے چارجز کا نفاذ برآمدی شعبے کے لیے شدید دھچکے کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ایکسپورٹ کارگو کی گراؤنڈ ہینڈلنگ خدمات فراہم کرنے والی دو کمپنیوں نے بغیر کسی مشاورت اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے فی کلو پچاس روپے اضافی چارجز عائد کر دیے ہیں، جو نہایت حیران کن اور ناقابل قبول اقدام ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے میں نہ حکومت کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی متعلقہ فریقین سے مشاورت کی گئی، جو بین الاقوامی اصولوں اور ریگولیٹری قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے ان اضافی چارجز کو فوری طور پر روکنے اور ان کا قانونی جواز پیش کرنے کا حکم دیا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ متعلقہ کمپنیاں اب بھی ان ہدایات کو نظرانداز کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ادارہ حکومتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ لاہور چیمبر، ایئر کارگو ایجنٹس آف پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ہر فورم پر اس مسئلے کو اٹھایا جائے گا تاکہ برآمدکنندگان پر مسلط کیے گئے اضافی چارجز واپس لیے جا سکیں۔ انہوں نے وزارتِ تجارت اور پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ دار کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر سینئر نائب صدر لاہور چیمبر، تنویر احمد شیخ، ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان رانا شعبان اختر، ملک آصف، سید سلمان علی، محسن بشیر، چیئرمین پاکستان انٹرنیشنل فریٹ فارورڈنگ ایسوسی ایشن جمیل احمد، میاں عبدالحنان، کاشف ملک، اعجاز غوری، توقیر ملک، محمد عثمان اور عامر منیر سمیت مختلف تجارتی و برآمدی تنظیموں کے نمائندگان موجود تھے۔
ایئر کارگو ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین، رانا طارق محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گراؤنڈ ہینڈلنگ کمپنیوں نے بغیر کسی قانونی منظوری کے اضافی چارجز نافذ کیے ہیں، حالانکہ ان کی تقرری ایئرلائنز کرتی ہیں اور ادائیگیاں بھی انہی کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کارگو ہینڈلنگ کے تمام اخراجات ایک منظم نظام کے تحت ادا کیے جا رہے ہیں اور اس دوران کوئی ایسی نئی آپریشنل تبدیلی نہیں آئی جس کی بنیاد پر چارجز میں اضافہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ تقریباً سات سو ٹن کارگو مختلف ایئرپورٹس سے منتقل ہوتا ہے، اور پچاس روپے فی کلو اضافے سے روزانہ کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ برآمدکنندگان پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ رقم براہ راست ایکسپورٹرز ادا کریں گے، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مزید غیر مسابقتی ہو جائیں گی۔
رانا طارق محمود نے اعلان کیا کہ ایئر کارگو ایجنٹس اور متعلقہ ایسوسی ایشنز نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر آج رات بارہ بجے تک اضافی چارجز واپس نہ لیے گئے تو ملک بھر میں کارگو ہینڈلنگ روک دی جائے گی، کوئی نیا کارگو بک نہیں کیا جائے گا اور ایئر وے بل بھی جاری نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس بھی اس احتجاج میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر شعبے بھی ہڑتال میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔
چیئرمین پاکستان انٹرنیشنل فریٹ فارورڈنگ ایسوسی ایشن، جمیل احمد نے کہا کہ کارگو ہینڈلنگ چارجز میں اچانک اضافہ پاکستان کے پہلے سے کمزور برآمدی شعبے کو مزید نقصان پہنچائے گا اور فریٹ فارورڈرز کے لیے سنگین آپریشنل مشکلات پیدا کرے گا۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ میٹ ایکسپورٹرز نے بطور احتجاج پہلے ہی کام روک دیا ہے، جبکہ دیگر برآمدی شعبے بھی جلد کام بند کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں اگر مسئلہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا۔
شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر ایسے غیر مشاورتی اور یکطرفہ فیصلوں کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو مستقبل میں مزید غیر قانونی چارجز عائد کیے جا سکتے ہیں، جس سے ملکی برآمدات اور معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ لاہور چیمبر اور دیگر کاروباری تنظیموں نے حکومت سے فوری مداخلت اور برآمدی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔






