پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے منصوبوں کے ہنگامی واجبات کا حجم 472 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں سے جڑے مالی خطرات کی جانچ پڑتال کے لیے یہ نیا نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت وفاق اور تمام صوبے ہر چھ ماہ بعد اپنی رپورٹس پیش کریں گے۔
حکومت نے آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کر دیا، فسکل رسک مانیٹرنگ فریم ورک کا نظام متعارف کرادیا گیا۔
— SAMAA TV (@SAMAATV) January 5, 2026
پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت چلنے والے منصوبوں کے ہنگامی واجبات کا حجم 472 ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبوں کے مالی… pic.twitter.com/6P3oKVWcBn
رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں میں 368 ارب روپے کے ہنگامی نوعیت کے واجبات شامل ہیں، جب کہ حکومت نے ممکنہ مالی جھٹکوں سے بچاؤ کے لیے یہ نیا مانیٹرنگ نظام متعارف کرایا ہے۔






