وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس اقدام کو پاکستان کو عالمی مالیاتی منڈیوں سے مربوط کرنے اور محفوظ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے کے حکومتی عزم کا حصہ قرار دیا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے بیرونِ ملک مقیم ایک کروڑ 10 لاکھ پاکستانیوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملکی معیشت کی مضبوطی کا بڑا ذریعہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 38.3 ارب ڈالر کی تاریخی ترسیلاتِ زر حاصل کیں، جب کہ مالی سال 2026 میں یہ حجم 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کارکردگی کے ساتھ پاکستان اب ترسیلاتِ زر وصول کرنے والا دنیا کا پانچواں اور جنوبی ایشیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 16.3 ارب ڈالر جبکہ ملک کے مجموعی ذخائر 21.6 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ستمبر 2020 میں دور رہ کر بھی دور رہ کر بھی پاس کے سلوگن کے ساتھ شروع کی گئی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کے اب تک 9 لاکھ سے زائد اکاؤنٹ کھل چکے ہیں، جن کے ذریعے مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر سے زائد رقم ملک میں آئی ہے۔

وزیرِ خزانہ نے عالمی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں، کیونکہ حکومت عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک شفاف اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔