میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی سطح کی بات چیت مکمل ہو چکی ہے اور اب شراکت داری کی تفصیلات طے کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میگا پراجیکٹ میں آرامکو قیادت کرے گی جبکہ پاکستان کی چار بڑی توانائی کمپنیاں پاکستان اسٹیٹ آئل، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگز پاکستان لمیٹڈ مجموعی طور پر 40 سے 45 فیصد حصہ داری رکھیں گی۔
مجوزہ ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً 4 لاکھ بیرل تک ہونے کا امکان ہے، جو پاکستان کی موجودہ ریفائننگ ضروریات کا بڑا حصہ پورا کر سکتی ہے۔ اس منصوبے کو مزید پرکشش بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے 20 سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ سرمایہ کاری نہ صرف گوادر کو ایک علاقائی انرجی حب میں تبدیل کرنے میں مدد دے گی بلکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار فراہم کرے گی۔ سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں آئل ریفائنری کے قیام کا منصوبہ طویل عرصے سے زیر غور تھا، اور اب اس پر عملی پیش رفت کے امکانات واضح ہو رہے ہیں۔






