اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی مہینے میں موصول ہونے والے 3.12 ارب ڈالر کے مقابلے میں ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر 5.2 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم جنوری میں موصول ہونے والے 3.46 ارب ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر ترسیلات میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
مرکزی بینک کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران ترسیلاتِ زر کا مجموعی حجم 26.49 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں موصول ہونے والے 23.98 ارب ڈالر کے مقابلے میں 10.5 فیصد زیادہ ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ترسیلاتِ زر ملک کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دینے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ان پر انحصار کرنے والے گھرانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت مسلسل معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق 2009 سے شروع کیے گئے پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو کے تحت قانونی ذرائع سے ترسیلات بڑھانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ اس پروگرام کے تحت نیٹ ورک میں شامل مالیاتی اداروں کی تعداد 25 سے بڑھ کر 50 سے زائد ہو چکی ہے، جن میں روایتی بینک، اسلامی بینک، مائیکرو فنانس بینک اور ایکسچینج کمپنیاں شامل ہیں۔
مزید برآں الیکٹرانک منی اداروں کو بھی بینکوں کے ذریعے رقوم وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جب کہ اس نیٹ ورک میں شامل بین الاقوامی اداروں کی تعداد 45 سے بڑھ کر تقریباً 400 تک پہنچ چکی ہے۔
ملک وار ترسیلات کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے مطابق فروری 2026 میں متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں نے سب سے زیادہ 696.2 ملین ڈالر وطن بھیجے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہیں۔
اسی طرح سعودی عرب سے آنے والی ترسیلات میں سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور فروری میں یہ رقم 685.5 ملین ڈالر رہی۔
برطانیہ سے فروری 2026 میں 532 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو جنوری کے مقابلے میں کم ہیں تاہم سالانہ بنیادوں پر ان میں 7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نئی قیمت کیا ہے؟
اس کے علاوہ امریکا میں مقیم پاکستانیوں نے فروری کے دوران 319.5 ملین ڈالر بھیجے، جو سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔
دریں اثنا یورپ کے مختلف ممالک سے آنے والی ترسیلات فروری میں 395 ملین ڈالر رہیں، جن میں سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔





