ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اس وقت ورچوئل مذاکرات جاری ہیں، جن میں آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر کسی بھی قسم کی سبسڈی نہ دے اور عالمی منڈی کے مطابق قیمتوں میں فوری اضافہ کرے۔
آئی ایم ایف حکام نے زور دیا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف ہر صورت پورا کرے، جو 30 جون تک تقریباً 1468 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے دسمبر کے دوران پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں 822 ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں، جو مقررہ ہدف کا 60 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں۔
آئی ایم ایف کا پیٹرول اور ڈیزل فوری مہنگا کرنے کا مطالبہ pic.twitter.com/X3ZtzQUVMm
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) March 6, 2026
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 15 مارچ تک پاکستان میں پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں تقریباً 32 روپے فی لیٹر اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس طرح پیٹرول کی قیمت 153 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر تقریباً 186 روپے 47 پیسے فی لیٹر تک جا سکتی ہے، جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 50 روپے فی لیٹر سے زائد اضافے کا امکان ہے۔
عالمی منڈی میں بھی تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں، جہاں ہائی اسپیڈ ڈیزل 93 ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 138 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جب کہ پیٹرول 79 ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 98 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آنے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔






