آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ وفد سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تیسرے جائزے، جب کہ 1.3 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے پر بات چیت کرے گا۔
جولی کوزیک نے کہا کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسی ایڈجسٹمنٹس نے معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے اور مالی سال 2025 میں ملک کی مالی کارکردگی مضبوط رہی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے جی ڈی پی کے 1.3 فیصد کے مساوی بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جو پروگرام کے اہداف کے عین مطابق ہے۔
انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھا گیا ہے، جب کہ مالی سال 2025 کے دوران پاکستان 14 برس بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، جو بیرونی کھاتوں میں استحکام کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف حکام کے مطابق گورننس اور انسدادِ بدعنوانی سے متعلق حالیہ رپورٹ میں اصلاحات کی متعدد تجاویز شامل کی گئی ہیں۔
ان میں ٹیکس پالیسی کو سادہ بنانا، سرکاری خریداری کے نظام میں مساوی مواقع فراہم کرنا اور اثاثہ جات کے گوشواروں میں شفافیت کو بہتر بنانا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی معیشت کی رفتار سست، 2025 کی آخری سہ ماہی میں شرح نمو کم ترین سطح پر آگئی
ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کے مثبت بیانات سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت مل سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مارکیٹ کو حالیہ سیشن میں شدید مندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ جائزہ مذاکرات پاکستان کی معاشی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے اور پروگرام کی کامیاب تکمیل سے عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔






