لاہور چیمبر میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل اور خام مال کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے، جس سے پیداواری لاگت اور ٹرانسپورٹ چارجز میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صنعتکار، تاجر اور عام عوام سب یکساں طور پر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگی صورتحال طویل ہو گئی تو مہنگائی اور بے روزگاری کا شدید بحران جنم لے سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں ضروری اشیاء کا کم از کم 28 دن کا اسٹریٹجک اسٹاک موجود ہوتا تو قیمتوں میں اس قدر اضافہ نہ ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عید کے موقع پر مہنگائی کے باعث خریداری نہ ہونے کے برابر رہی، جس سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔
صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ کاروباری برادری توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری کے لیے عملی اقدامات شروع کر رہی ہے اور صنعتوں و دکانوں میں بجلی، گیس اور پٹرول کے محتاط استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاہور چیمبر حکومت کی کفایت شعاری مہم میں شانہ بشانہ کھڑا ہے تاکہ قومی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 16 ہزار 300 روپے کا بڑا اضافہ، نئی قیمت کیا ہے؟
فہیم الرحمٰن سہگل نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ملک کو درپیش دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے، کیونکہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے امن بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران-امریکہ جنگ خطے کے کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں اور اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فوری کردار ادا کرتے ہوئے اس تنازع کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے تاکہ عالمی اور علاقائی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمام معاشی فیصلے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیے جائیں تاکہ کاروباری سرگرمیوں اور صنعت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔






