نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت کی محتاط مالیاتی اور زرمبادلہ پالیسیوں کے باعث معاشی استحکام کی جانب پیش رفت، عالمی بینک کی رواں سال تین فیصد معاشی نمو کی پیش گوئی، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافے اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ڈھائی ارب ڈالرز کے کم شرح سود پر رول اوور کی توقعات نے جمعے کے روز انٹربینک مارکیٹ میں مسلسل 81ویں روز ڈالر کے مقابلے میں روپے کو مضبوط رکھا۔
ایکسچینج کمپنیوں کو راست سسٹم کے استعمال کی اجازت، ترسیلات زر کا براہِ راست بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہونا، افراطِ زر کے قابو میں رہنے اور ریکوڈک منصوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی جیسی مثبت خبروں نے بھی ڈالر کو دباؤ میں رکھا۔ نتیجتاً کاروبار کے تمام اوقات میں انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں کمی دیکھنے میں آئی۔
کاروباری سیشن کے دوران ایک موقع پر ڈالر 21 پیسے سستا ہوکر 279 روپے 75 پیسے کی سطح تک آگیا، تاہم بعد ازاں زرمبادلہ کی طلب بڑھنے سے مارکیٹ بند ہوتے وقت ڈالر صرف ایک پیسے کی کمی کے ساتھ 279 روپے 95 پیسے پر بند ہوا۔
دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 281 روپے پر برقرار رہی۔






