سفارتی سطح پر ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں دو ہفتوں کی جنگ بندی نے عالمی منڈیوں میں اعتماد بحال کیا ہے۔ اس پیش رفت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے ردعمل میں کہا کہ حالات تیزی سے بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں اور آنے والے دن عالمی امن اور معیشت کے لیے خوش آئند ثابت ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ پیش رفت میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں کمی آئی اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد ملی۔ اسی تناظر میں خطے میں امن کے قیام کے لیے مزید رابطے اور مشاورت جاری ہے۔
ادھر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔ 100 انڈیکس میں ابتدائی لمحات میں ہی ہزاروں پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث مارکیٹ میں شدید خریداری کا رجحان پیدا ہوا۔ تیزی کی شدت کے پیش نظر کچھ وقت کے لیے ٹریڈنگ کو روکنا پڑا، جسے بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا، عالمی کشیدگی میں کمی اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام ایسے عوامل ہیں جنہوں نے مارکیٹ کو سہارا دیا ہے،اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان سمیت خطے کی معیشت پر اس کے دیرپا مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

عالمی سطح پر بھی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جہاں مختلف ایشیائی انڈیکسز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے، جسے عالمی معیشت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اہم بحری گزرگاہوں میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور نقل و حمل میں بہتری کے امکانات روشن ہو رہے ہیں، جس سے عالمی تجارت کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید مذاکرات کے ذریعے مستقل امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ سیاسی استحکام اور بہتر سفارتی تعلقات کے باعث معاشی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوگا اور مارکیٹ میں بہتری کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔






