ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو نرخ 100 ڈالر فی بیرل تک جا سکتے ہیں۔ خلیجی خطے میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی منڈی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
آئی سی آئی ایس کے ڈائریکٹر اجے پرمار کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ اثر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کا ہوگا، کیونکہ دنیا بھر میں تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ متعدد آئل ٹینکرز، بڑی تیل کمپنیاں اور تجارتی ادارے اس سمندری گزرگاہ کے ذریعے تیل، ایندھن اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل روک چکے ہیں۔ اگر یہ تعطل طویل ہو گیا تو قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔
Strait of Hormuz,the key route for global oil transport has been captured and closed by Iran 🇮🇷 government.This is odds on elevation of fuel prices in Uganda pic.twitter.com/mm9EiTAWkT
— Betram.NB (@Betram97) March 1, 2026
اوپیک پلس نے یکم اپریل سے یومیہ 206,000 بیرل پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جو عالمی طلب کا محض 0.2 فیصد بنتا ہے۔ اس کے ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے برآمدات میں اضافہ کیا ہے تاکہ منڈی میں کسی حد تک استحکام پیدا کیا جا سکے۔
رسٹڈ انرجی کے ماہر خورخے لیون کے مطابق اگرچہ آبنائے ہرمز بند بھی ہو جائے تو سعودی عرب اور ابوظہبی کی پائپ لائنوں کے ذریعے کچھ مقدار میں تیل کی ترسیل جاری رہ سکتی ہے، تاہم مجموعی طور پر یومیہ 8 سے 10 ملین بیرل تک کمی کا خدشہ ہے۔
ادھر ایشیائی ممالک نے اپنے ذخائر اور متبادل راستوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جبکہ بھارت خلیجی سپلائی میں ممکنہ کمی کے پیش نظر روسی تیل پر انحصار بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔
آر بی سی کی تجزیہ کار ہیلیما کروفت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ باقاعدہ جنگ کی صورتحال بنی تو تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتا ہے۔ بعض دیگر تجزیہ کار نسبتاً محتاط اندازہ لگاتے ہوئے توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ قیمتیں قریبی عرصے میں 90 ڈالر فی بیرل سے زائد رہ سکتی ہیں۔






