این ایس سی کے مطابق پہلا انعام 15 لاکھ روپے کا ایک خوش نصیب کو دیا گیا ہے، جب کہ دوسرا انعام 5 لاکھ روپے فی کس تین کامیاب امیدواروں کو دیا گیا ہے۔ مکمل فہرست نیشنل سیونگز سینٹر کے سرکاری نوٹیفکیشن کے بعد شائع کی جائے گی۔
واضح رہے کہ انعامی بانڈز حکومتِ پاکستان کی ایک بلا سود سرمایہ کاری اسکیم ہے، جو شہریوں کو محفوظ سرمایہ کاری کے ساتھ بھاری انعام جیتنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
یہ اسکیم اسلامی مالیاتی اصولوں کے مطابق ترتیب دی گئی ہے اور کم خطرے کے باعث عوام میں خاصی مقبول ہے۔ اس کے ذریعے عوام نہ صرف محفوظ سرمایہ کاری کرتے ہیں بلکہ قومی مالیاتی نظام میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ اسکیم اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور نیشنل سیونگز آرگنائزیشن کے اشتراک سے منظم کی جاتی ہے۔
وفاقی حکومت کی نئی ٹیکس پالیسی کے مطابق، فائلرز کو انعامی رقم پر 15 فیصد اور نان فائلرز کو 30 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ یہ پالیسی جولائی 2025 سے نافذالعمل ہے۔
قومی بچت کی جانب سے جاری کردہ بانڈز 100، 200، 750، 1500، 7500، 15000، 25000 اور 40000 روپے مالیت میں دستیاب ہیں۔ ہر سہ ماہی ان بانڈز کی قرعہ اندازی پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقد کی جاتی ہے۔
حکومتی ہدایت کے مطابق، 1500 روپے مالیت کے وہ بانڈز جن کے نمبر AW-070001 سے AW-090000 تک ہیں، 19 مئی 2014 سے منسوخ ہوچکے ہیں اور نہ تو انہیں کیش کروایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان پر انعام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
1250 روپے تک کی انعامی رقم نیشنل سیونگز سینٹر، اسٹیٹ بینک یا منظور شدہ کمرشل بینکوں کی شاخوں سے حاصل کی جا سکتی ہے، جب کہ 1250 روپے سے زیادہ کی رقم صرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شاخوں سے وصول کی جا سکتی ہے۔
رقم حاصل کرنے کے لیے درخواست فارم، شناختی کارڈ کی کاپی اور جیتنے والے بانڈ کی دستخط شدہ کاپی جمع کروانا ضروری ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ حکومتی پالیسی کے مطابق کسی بھی انعامی بانڈ پر انعام کی رقم قرعہ اندازی کی تاریخ سے چھ سال تک حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس مدت کے بعد کسی بھی دعوے کو قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا۔






